انسانی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک وبائی بیماری نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیکر نظام زندگی کو مفلوج کرکےرکھ دیا ہے۔ اس نے انسانی زندگی کے جن شعبوں کو متاثرکیاہے تعلیم کاشعبہ ان میں سرفہرست ہہے ۔
درس و تدریس ، اندرونی اور بیرونی امتحانات ٹریننگز اور تحقیقی سرگرمیاں رک گئی ہیں ۔ ہزاروں تعلیمی پروگرام منسوخ کردئے گئے ہیں تربیتی مراکز بند کردئے گئے ہیں اور ہاسٹل خالی کرادئے گئے ہیں۔ دنیا میں 6 کروڑ سے زیادہ پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ اور ان کے ساتھ معاون تعلیمی عملے کا کام شدید متاثر ہو کر رک گیا ہے
جب عالمی ادارہ نے باضابطہ طورپر 13 مارچ 2020 کو وبا کا اعلانیہ جاری کیا بہت سے ممالک نے تعلیمی ادارے بند کردیے تاکہ وبا کی پھیلاؤ کو قابو کیا جاسکے۔
27 اپریل 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں تقریباَ ایک ارب ستر کروڑ طلبہ وبا سے متاثر ہوئے۔ہیں یونیسکو کے مطابق 191 ممالک نے قومی سطح پریا مقامی سطح پر لاک ڈاون کیا جس سے عالمی سطح پرتقریباً 98 فیصد طالب علم متاثر ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں متاثرہ طلباء کی تعداد تقریباً 46803407 ہے۔ ان میں پری پرائمری کے 8636383 ، سیکنڈری لیول کے 13357618 جبکہ کالج اور یونیورسٹی لیول کے 1878101 طلباء کی شامل ہے
پاکستان میں وفاقی حکومت نے باضابطہ طورپر تمام تعلیمی اداروں کو جو کہ وسط مارچ سے بند ہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ مئی 2020 تک بند رہیں گے۔ لیکن ان کا کھلنا مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ وبائی وائرس اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ستمبر سے پہلے ادارے نہی کھل سکیں گے
بہت سے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی جواب بھی ائئ سی ٹی میں بہت پیچھے ہے اس ناگہانی آفت کے لیے تیارنہیں تھا اور اس لئے یہاں تعلیمی شعبے کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور بچوں کے پڑھائ کا عمل متاثر ہوا
سکولوں کی بندش پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے سکول شمالی علاقوں میں سردی کے موسم میں تین مہینے کےلیے جبکہ میدانی علاقوں میں گرمی میں اتنے ہی عرصے کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔ تین مہینے پر محیط لمبی چھٹیاں پڑھائی میں بہت لمبا وقفہ ہے۔ جو پڑھنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے لیکن ہم نے کبھی اس پر تو سوچا نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی ,کہ اس عرصے میں بچوں کی پڑھائی گھر پر جاری رکھنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ڈسٹنس لرننگ سے فائدہ اٹھائیں ,جس طرح ترقی یافتہ ممالک کرتےہیں ۔ اگر ہم نے اس پر پہلے کچھ کام کیا ہوتا تو آج ہمارے ساتھ اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے کچھ نہ کچھ ذریعہ ہوتا۔
ہمارے تعلیمی ادارے پہلے بھی غیرمتوقع وجوہات کے بناء پر بند ہوتے رہے ہیں جیساکہ دھند، سیلاب اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث۔ لیکن پھر بھی ہم نےان حالات سے کچھ نہی سیکھا ن ہی مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی کی نہ کوئی نظام بنایا حتی کہ
۔ جب جنوری کے مہینے میں کورونا وبا کی خبریں گردش کرنے لگیں، توچین نے ابتدائ ضروری اقدامات اٹھائے اوردنیا کو ایک مہینہ پہلے ایک موقع فراہم کر دیا تاکہ وہ اپنے آپ کو ایسے ممکنہ حالات کے لیے تیار رکھیں۔ لیکن ہماری حکومت نے اس, وقت بھی ضروری اقدامات نہی کئیں
موجودہ وبا نے ہماری حکومت کی ایسی صورت حا ل سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت کو بری طرح آشکارا کیا ہے فاصلاتی تعلیم اور اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا استعمال بڑی ناکامی کا سبب بنی۔ اگرچہ 2017 کی قومی تعلیمی پالیسی واضح طورپر فاصلاتی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہےکیونکہ یہ پاکستانی طللناء کی ایک بڑی تعداد کے لیے تعلیم و ہنر سیکھنے کا بڑا ذریعہ ہے تاکہ وہ قومی اقنصادی نمو میں اپنا کردار ادا کریں۔ ۔
موجودہ صورت حال نے ہماری لیے فاصلاتی نظام تعلیم کی اہمیت مییں مزید اضافہ کردیا ہے۔
لیکن ہماری حکومتوں کی گزشتہ ادوار میں غفلتوں کی وجہ سے اس شعبے سے استفادہ کرنے میں بہت سے مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے جیسے کہ ہماری سکولوں میں بنیادی سہولیات
, انٹرنیٹ کی مختلف علاقوں تک رسائی ۔ (موجودہ وقت میں 36٪ پاکستانی شہریوں کو انٹرنیٹ کی رسائی میسر ہے)
لیپ ٹاپ کمپیوٹراورسمارٹ فوں کی دستیابی. (اس وقت 51٪ شہریوں کو سمارٹ فون کی سہولت حاصل ہے)
۔ انٹرنیٹ سپیڈ، ہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر عبور اور اساتذہ کی آن لائن طریقہ تدریس سے ناواقفیت
اور بھی کئ مشکلات اور چیلنجز ہیں جیس
۔اکثراساتذہ کے لیے ایسے کوئی کورسز نہیں ہیں کہ وہ و
ڈیجیٹل طریقے سے تدریسی منصوبہ بندی کریں اور آن لائن لیکچر دینے کا ہنر حاصل کریں۔ ایسا نصاب تعلیم جو کہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ (موجودہ نصاب تعلیم 2006 میں تیار کی گیا تھا) ۔اور آخر میں والدین کی تربیت، حکومت اور قومی اور بین الاقوامی نظیموں کی مشترکہ کوششیں ۔
ان چیلنجز کی وجہ سے آج کی بحرانی کیفیت میں تمام طلباء مشکلات کے شکار ہیں۔ چند اعلٰی تعلیم سے وابستہ یونیورسٹیاں اور بڑی فیسوں والے تعلیمی ادارے جو کہ اکثر پاکستان کے بڑے شہروں میں واقع ہیں اپنے طلباء کی آن لائن پڑھائی جاری رکھنے میں کامیاب ہیں۔ انہوں نے مختلف جدید تدریسی طریقوں جس کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی پر ہے کو استعمال میں لایا ہے جو کافی حد تک روایتی کلاس روم کی نعم البدل ہںیں جیسے زوم کے اور دوسرے الائن ٹولز کی مدد سے کلاسز ، ویڈیو کانفرنسنگ، تدریسی مواد کی انٹرنیٹ کے ذریعے فراہمی اور میسجنگ.
ان تمام طریقوں کی وجہ ان اداروں نے کافی حد تک
اس بحران پر قابو پالیا ہے اور طلباء کا وقت ضائع ہونے سے بچالیا ہے۔
لیکن باقی سرکاری سکولون اور چھوٹے نجی سکولوں کے لاکھوں بچوں کو پڑھائ کے شدید بحران کا سامناہے کیونکہ وہ ان تمام ضروری سہولیات سے محروم ہیں جس کے ذریعے وہ فاصلاتی اور دوسرے جدید طریقوں سے مستفید ہو سکیں۔ اس وقت حکومت کے لئے سب بڑا اچیلنج یہی ہے.
دنیا کے مختلف دوسرے ممالک کوبھی ہماری طرح اس لاڈاون میں بچوں کی تعلیم کا مسئلہ درپیش ہے اور اس سلسلے میں مختلف ممالک میں مختلف اقدامات اٹھا ئےجا رہے ہیں اور خوش قسمتی سے ان میں سے کئ کافی حد تک اس مستلے کے حل میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں .
مثال کے طور پرکینڈا نے لاڈاون کے دوران 20 لاکھ طلباء تجارتی یونیںوں کے ممبروں اور پندرہ ہزار اساتذہ کو دو ہفتے کی تربیت دی تاکہ وہ آن لائن پڑھائی کو یقینی بنائیں تعلیم کی وزارت نے سکول بورڈزاور تجارت یونین کے ساتھ ہفتہ وار میٹنگ کر رہے ہیں تاکہ پیش آنے والے ممکنہ مسائل پر قابو پایا جاسکے اس طرح یوکرین موجودہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے آن لائن نصاب بنا لیا ہے.
روانڈا جو ایک غریب ملک ہے اور جس کی 30 لاکھ بچی سکول سے باہر ہے نے ریڈیو کو تعلیم کا ایک بڑا ذریعہ بنالیا ہے کیونکہ ریڈیو کی نشریات ہر جگہ سنی جاسکتی ہے
عرب امارات میں وزارت تعلیم نے بیالیس ہزار اساتذہ کو ای ٹریننگ کورس سے گزارا تاکہ وہ اس قابل ہو سکے کہ بچوں کو آن لائن پڑھاسکے
ارجنٹینا کی وزارت تعلیم نے ایک تعلیمی پورٹیل بنائی ہیں جس میں اساتذہ طلباء اور والدین کے لئے مختلف تعلیمی مواد رکھ دیا گیا ہے اس طرح ریڈیو اور ٹی وی پر تعلیم نشریات شروع کر دی گئی ہے ان پروگراموں میں میزبان اکثر سائنسدان آرٹسٹ اور اساتذہ ہوتے ہیں حکومت نے ٹیلی فون کمپنیوں کو پابند کر دیا ہے کہ اس پورٹل پر براؤزنگ مفت ہوں اور انٹرنیٹ ڈیٹا بھی خرچ نہ ہو
اس طرح آسٹریا اس وبا کے بچوں پر نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے اور اس کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے
پیراگوئے کی حکومت نے اپنے 12 لاکھ طلبہ اور ساٹھ ہزار اساتذہ کی ٹریننگ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مائیکروسافٹ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں
اس طرح فرانس اور جین نے پرنٹڈ مواد کو بچوں تک پہنچایا ہے. فرانس کی حکومت نے پوسٹ آفسس کو پابند کیا ہے کہ یہ مواد بچوں تک پہنچایا جائے گا.
یورپین ٹریننگ فاؤنڈیشن ETF ایسے نئے اقدامات اٹھا رہی ہے جس میں تعلیمی شعبے سے وابستہ لوگ جیسے ٹریننگ کے ادارے, بزنس مین, سکول, اساتذہ طلبہ اور خاندان بین الافاصلاتی تعلیم (ڈسٹنس لرنگ )کے چیلنجز کو مل کر حل کر نے کی کوشش کرے اور ایسا وہ دستیاب وسائل کے اندر رہ کر کریں.
ہماری حکومت کے لئے تعلیم پر وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ان بین الاقامی اقدامات میں کافی رہنمائی موجود ہے.حکومت کو اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا جائے.
حکومت کے لیے تجاویز
حکومت بچوں کے تعلیمی عمل کو گھر پر جاری رکھنے کے لئے اس وقت پر الاقوامی طور پر اور ملک کے اندر جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھے کرے اور اس کے بنیاد پر ممکنہ حل کیلئے کی عملی خاکہ بنائیں
حکومت ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو انٹرنیٹ کی رسائی دور دراز علاقوں تک پہنچانے اور سروس بہتر بنانے کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کرے تاکہ طلباء کی ان لائن تدریس اور پڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو.
حکومت ایک آن لائن پورٹل بنائیں اور نصاب سے متعلق انٹرنیٹ پر مختلف مواد کو جمع کرکے اس کا حصہ بنائے تاکہ طلبہ, اساتذہ اور والدین اس سے مستفید ہوسکیں بہتر ہوگا اگر مختلف مضامین کے ماہرین کومواد جمع کرنے کا کام حوالے کیا جائیں.
حکومت اساتذہ کو آن لائن تدریس کی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی مختصر دورانیے کی ٹریننگ دے اس عمل میں پرائیویٹ اداروں کی اساتذہ کی بھی مدد کریں جو اس وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں
5حکومت نے ٹی وی پر تعلییمی پروگراماکا سلسلہ شروع کرکے اچھا اقدام اٹھایا ہے لیکن اس کو مزید موثر بنانے کے لیے یہ پروگرامات علاقائی ٹی وی چینلوں اور ریڈیو پر بھی نشر کیے جائےاور بچوں کی شرکت بنانے کے لیے اسکول ایسوسی ایشن اسکول مینجمنٹ کی مدد لی جائیں
اس حوالے سے والدین میں بچوں کی تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کے لیے ایک ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے اور اس عمل کے لیے ٹی وی ریڈیو ایس ایم ایس واٹس ایپ آن لائن زوم ٹریننگ اور اساتذہ کو استعمال کرنا چاہیے تاکہ والدین اس قابل ہو سکے کہ گھر پر مختلف طریقوں سے بچوں کی پڑھائی کا عمل جاری رکھ سکے
حکومت کو اسا پلیٹ فارم بنانا چاہیے جہاں مختلف ادارے اور سکول بچے تک پہنچنے کےحوالے سے بہترین طریقوں اور کوششوں کو ایک دوسری کے ساتھ شیئر کر سکیں
اور سب سے آخر میں اس پورے تعلیمی عمل کو موثر بنانے کے لیے کمپنیوں, سکولوں یونیورسٹیو ں, ٹریننگ کے اداروں, سافٹ ویر ہاؤسز, پبلشنگ کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر
لاکر پورے عمل کو مربوط بننا چاہبناجائے.
احمدیار (ایسوسی ایٹ زونل ہیڈ آفاق)
زبردست تحریر
ReplyDeleteMasha Allah Sir
ReplyDelete