آج کا معلم,اکیسویں صدی کے تقاضے اور چیلنجز


تحریر :احمدیار(ایسوسی ایٹ زونل ہیڈ آفاق مردان)

استاد کی نئ ذمہ داریوں اور بدلتے ہوئے کردار پر بحث ایک عرصے سے جاری تھی لیکن موجودہ وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور اس کے نتیجے میں تعلیمی دنیا پر اس کے اثرات  نے دنیا بھر میں تعلیمی طبقے کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ استاد کے جدید دنیا میں نئے ابھرتے ہوئے کردار پر ازسر نو ایک نئے بحث کا آغاز کریں.
اس بحث کا بڑا سبب وہ تمام مشکلات ہیں جو تاریخ میں پہلی مرتبہ تعلیمی طبقے جیسے  طلباء, والدین اور آساتذہ کو پیش آئیں ہیں چونکہ اس وبا نے تقریباً دنیا کے 98 فی صد طالب علموں  اور آساتذہ کو متاثر کیا جن میں اکثریت اس قسم کی صورت حال کے لئے کبھی تیار نہی تھے.
آساتذہ کی اکثر یت جدید طریقوں, آئ ٹی ٹولز اور انٹرنیٹ کی استعمال سے نا آشنا نظر آئے جس کی وجہ سے وہ اپنے طلباءکی موجودہ صورت حال میں کو ئ زیادہ مدد نہیں کرسکیں۔
وبا سے پہلے بھی ہمارے اساتذہ  کو کئ قسم کے جدید مسائل کا سامنا تھا جیسے ہمارے پیشہ ورانہ کورسز کا جدید خطوط پر استوار نہ ہونا, ایجوکیشن ٹینالوجی کا فہم, پرانے تدریسی طریقوں کا استعمال, تعلیمی اداروں کی طرف سے ٹریننگ کا فقدان, نصاب کا جدید خطوط پر استوار نہ ہونا اکیسویں صدی کے بنیادی مہارتوں کا علم نہ ہونا اوردنیا سے رابطہ نہ ہونا ہے.
دوسری طرف طالب علم کو ہر قسم کی معلومات تک کی رسائی ہیں. کہتے ہے کہ آج کل کے ادنیٰ کلاس کی طالب علم کو جو معلومات میسر ہیں  وہ اس کے دادا کو دسویں جماعت میں نہ تھی اور آج کل کے دس سال کے طالب علم کو اپنے موبائل فون پر جن معلومات تک  رسائ ہے وہ 50سال پہلے  کسی حکومت کو نہیں تھی.
ایسے ماحول میں جس میں طالب علم کی رسائی بھی معلومات کے ایک بڑے سیلاب تک ہیں جو حیران کن بھی ہیں دلچسپ بھی اور نئ بھی ہیں, نے استاد کے لئے ایک بڑا چیلنج یہ پیدا کر دیا ہے کہ وہ طالب علم کی توجہ پرانے وسائل اور طریقہ کار سے مرکوز نہی رکھ سکتا. اس کو آج کل کےجدید وسائل,طریقہ کار, ہنر اور معلومات کو کام میں لاکر اپنے اپکو 21. ویں صدی کے طالب علم کو پڑھانے کے لئے تیار کرنا ہوگا. اگر وہ ایسا نہ کرسکا تو ٹیکنالوجی اس کی جگہ لینے کے لیے تیار کھڑی ہے. مندرجہ زیل میں ہم  ایسی مہا رتوں اور چیلنجز پہ بات کریں گے جنکا  ادراک ہمارے اکیسویں صدی کے معلم کو ہونا علم چاہیے.
تعلیمی ٹیکنالوجی سے آگاہی
ٹیکنالوجی سے آگاہی آج کے استاد کی نہ صرف بنیادی ضرورت اور مہارت ہے بلکہ بنیادی خواندگی ہے.
استاد کو آن ٹولز کا علم ہونا چاہیے جس وہ اپنا سبق یا پرزنٹیشن بہتر طریقے سے بنا سکیں یہ پریزینٹیشن, پی,,پی ٹی, پوڈکاسٹ یا ویڈیو کی شکل میں ہوسکتی ہے. پریزینٹیشن کے لئے کچھ بنیادی ٹولز  پی پی ٹی, زوم, ویڈیو اڈیو ایڈنٹگ اور ریکارڈنگ ٹولز ہو سکتی ہے. اس طرح بین الفاصلاتی تدریس یا آن لائن لرننگ کے ٹولز کا علم بھی ضروری ہے. یہ ٹولز دو قسم کی ہیں کچھ براہرست تدریس کے لئے ہیں جیسے زوم, مائیکرسافٹ ٹیم, گوگل میٹ اور سکائپ وغیرہ ان ٹولز کا فائدہ یہ ہے طلباء اور آساتذہ طویل فاصلوں سے ایک وقت میں براہ راست ایک دوسرے کے سوال و جواب سے مستفید ہو سکتے ہیں اور لیکچر دے سکتے ہیں, اومواد شیر کرسکتے ہیں اور درس ریکارڈ کرسکتے ہیں. دوسرے قسم کے ٹولز ایسے ہیں جن میں کمیونیکیشن براہ راست نہی ہوتی. مسئلا گوگل کلاس روم, سی سا,لرننگ منیجمنٹ سسٹمClasscraft
 ,کلاس ڈاکومنٹس,Slack, فلپ گرڈ اور مختلف ڈکشن فورمز وغیرہ. ان ٹولز میں استاد بچوں کے ساتھ ورک شیٹس, ویڈیوز, پی, پی ٹی,ہوم ورک ٹسٹ وغیرہ بھیج سکتا ہے اور طلباء اپنے سہولت سے جب چاہے یہ مواد دیکھ سکتے ہیں. اور ردعمل ظاہر کرسکتے ہیں اس کے علاوہ کئ مفید ایپس ہیں جو اساتذہ کا کا م آسان مفید اور دلچسپ بنا سکتے ہیں. اساتذہ کو چاہئے کہ ان ان تمام جدید ٹولز کو سمجھے اور ان کو کام میں لاکر اپنے تدریس کو موثراور دلچسپ بنائیں.اور ان طالب علموں کو جو سکول سے دور ہے اپنے رابطے کا ذریعہ بھی بنائیں.
اکیسویں صدی کی مہارتیں

آج کل کے معلم کو 21 ویں صدی کے ان مہارتوں کا علم ہونا چاہیے جو طالب علموں میں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے. یہ مہارتیں لنرننگ سکلز جیسے             criticalskills ,creativity,collaoboratio Communication skills ہے.
literacy skills جیسے 
information literacy, media literacy  , technology literacy,
وغیرہ, اور روز مرہ زندگی کی مہارتیں جیسے flexibility skills, leadership skills, initiative, productivity, social skills
وغیرہ ہیی. اسی طرح اساتذہ کو 21.ویں صدی کے ان مہارتوں کا علم خود بھی ہونا چاہیے جو خود اساتذہ کے لیے ضروری ہیں یہ مہارتیں اصل میں 21ویں صدی کی بنیادی خواندگی ہیں. اگر استاد کو آن مہارتوں کا علم نہی ہیں تو وہ نہ صرف 21 ویں صدی کا ناخواندہ ہے بلکہ وہ طالب علموں کو بھی ناخواندہ بنانے کا سبب ہیں.
جدید تدریسی طریقوں سے آگاہی.

اکسوی صدی کے طالب علم کی توجہ پرانے اور فرسودہ طریقہ تدریس حاصل نہی ہوسکتی. اس کا زہن تیز بھی ہیں اور منتشر بھی اساتذہ کو آجکل کے جدید تدریسی طریقوں جیسے پراجیکٹ بیسڈ لفٹنگ, بلنڈڈ لرننگ, فلپڈ کلاسروم, گیمفیکیشن, کمپیٹنسی بیسڈ لرننگ وغیرہ سے آگاہی ہونی چاہیے.
اس کے علاوہ آج کا معلم درسی کتب کی معلومات پر صرف انحصار نہ کریں,کیونکہ درسی کتب ا کثر سالوں پہلے لکھی گئیں ہوتیں ہیں اس لئے کسی بھی موضوع کو پڑھاتے ہوئے جدید معلومات کو مد نظر رکھیں کیونکہ اکثر موضوعات میں حقائق ,معلومات اور اعداد و شمار وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتیں رہتی ہیں.
اس کے ساتھ ساتھ  معلم موضوعات کا عملی دنیا اور جدید مسائل کا آپس میں ربط بھی پیدا کریں وہ معلومات کو طوطے کی طرح نہ رٹوائیں. مثال کے طور پر آج کل کے جدید مسئلے جیسے کرونا کے موضوع پر تاریخ کا استاد اپنے طلب علموں کو وباوں کی تاریخ پر ,سائنس کا استاد کرونا کے علامات یا تدارک پر سوشل سٹڈی کا استاد کرونا کے معاشرتی اثرات پر یا اسلامیات کا استاد کرونا وبا کے پیدا کردہ فقہی مسائل پر کوئی پراجیکٹ یا ہوم ورک دے گا اور اپنے طلباء کو وہ تمام وسائل کی نشاندہی بھی کرے گا جہاں یہ معلومات میسر ہیں.
اس طرح کے دلچسپ طریقے جدید ترقی یافتہ ممالک کے اساتذہ استعمال کررہے ہیں اور مفید نتائج حاصل کررہے ہیں. اگر آج کا ہمار آ معلم تدریس کے لئے ان جدید طریقوں کو استعمال نہی کرے گا تو وہ آج کل کے تدریس کے بنیادی ضرورتوں کو پورا نہی کر پائے گا.
دنیا سے رابطہ
آج کا استاد, طالب علم کلاس روم اور سکول ایسے جزیرے کی طرح نہی ہوسکتے جو خشکی سے کٹے ہوئے ہو. لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سکول باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں. استاد سکول کو دنیا سے جوڑ سکتا ہے. استاد کو اپنے ہی مضمون کے اساتذہ چاہے وہ اپنے علاقے کے ہو, ملک کے اندر ہو یا بیروں ملک مختلف انٹرنیٹ  پلیٹ فارم کے ذریعے ہو مضبوط رابطہ استوار رکھیں تاکہ وہ تدریس کے حوالے سے مختلف چیلنجز ,مشکلات تجربات اور دریافتوں سے آگاہ ہوسکے اور اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ شیر کرسکیں. ان میں سے کچھ پلیٹ فارم یہ ہیں.
Twiddle ,Google drive,Bubble.us
Edmodo,Yammer,Vyew,Wikispaces
Facebook ,Google Hangouts,Cacoo
Titanpad,Haikulearning,Twitter,Minecraft,Economic-games,World of Warcraft,Bounceapp,Wiggio
Social Folder.me
وغیرہ.یہ کچھ پلیٹ فارمز ہیں جس کے ذریعے وہ دنیا کے ساتھ جڑ سکتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اپنے ویب سائٹ, بلاگ اور یو ٹیوب چینل بھی بنا سکتے ہیں. اور اس پر اپنے تجربات اور علم ,تحریریں اور ویڈیوز کی شکل میں دنیا کے ساتھ شیر کر سکتا ہے.
بحیثیت مسلم معلم

ایک مسلم معلم کو نہ صرف اکیسویں صدی میں اسلامی نظام تعلیم کے خدوخال کا علم ہونا چاہیے بلکہ دینوی علوم اور جدید قدرتی اور معاشرتی علوم کی امتزاج کی طریقوں سے بھی واقف ہونا چاہیے اس طرح  اکیسویں صدی  اور اسلامی نظام تعلیم کے کے اور جیلنجز سے بھی آگاہ ہونا چاہیے. ان چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج جدید دور میں
مسلمان بچوں کی تربیت کاہے. مسلمان نوجوان, جن کو اپنی ویژن سمت اور شناخت
کا بھی مسئلہ درپیش ہے, جو اپنے ماضی سے بھی نہ آشنا ہے, جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے بھی نا واقف ہیں, جو تہزیب احساس کمتری کا بھی شکار ہے. جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے نہ صرف ناواقف ہے بلکہ اسکا استعمال منفی کررہے ہیں
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں میں منشیات  اور برداشت کے مسائل کا بھی سامنا ہے.
ایک مسلم معلم کونہ صرف مسلمانوں کے علاقائی مسائل کو سمجھنا ہے بلکہ اس کو پوری امت کے مسائل کا ادراک ہونا چاہیے. ان مسائل میں جتنا زیادہ ان کا فکر وسیع ہوگا اتنا ہی بہتر حل کا ادراک ہوگا. ایک مسلم معلم کو  قرآن ,حدیث, اسلامی تاریخ, سیرت نبوی ,  اور حدیث سے مسلسل اپنی رہنمائ لینی چاہیے.تاکہ یہی سے روشنی لیکر وہ اپنے طالب علموں کے قلب و روح کو اس سے منور کر سکیں.
آخر میں ایک معلم کو چائیے کو اپنے اپکو ایک طالب علم سمجھیں,وہ اپنے پرانے پیشہ ورانہ ڈگریوں جیسے سی ٹی بی ایڈ یا ایم ایڈ کو کافی نہ سمجھیں بلکہ مسلسل سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں اور تعلیمی دنیا میں ہونے والے نے تبدیلیوں پر نظر رکھیں .جتتا وہ اس حوالے سے چوکس ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے طالب علم اس سے مستفید ہوسکیں گے

Comments

  1. بہت مفید اور انفارمٹیو موضوع پر آپ نے بحث کی ھے جسے پڑھ کر جدید معلم کو بہت زیادہ فائدہ ھوگا

    ReplyDelete
  2. عمدہ تحریر ہے اور بہترین اسلوب میں لکھی گئی ہے

    ReplyDelete
  3. عمدہ تحریر ہے بہترین اسلوب میں لکھی گئی ہے سرفراز احمد

    ReplyDelete
  4. Maa shaa Allah....
    very informative article

    ReplyDelete
  5. اچھالوازمہ ہے تاہم انگریزی سے اردو ترجمہ ناقص ہے.

    ReplyDelete
  6. Asalam o alikum..
    Very much informative & motivated.. Thanks for the sharing..
    SLOs based learning is main objective for education & we are used any type of method for achieving..
    Agian we'll done.. Keep it up 👌👍
    M Zia Ul Murad
    Training coordinator
    AFAQ SUKKUR

    ReplyDelete
  7. I appreciate your efforts regarding the rising issue s in Education field.👌

    ReplyDelete
  8. Such a teacher requires salary that s impossible for private institutes. Moreover such teachers may be very few, perhaps 1percent n Pakistan and they r regional heads n AFAQ

    ReplyDelete
  9. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete

Post a Comment