تحریر: احمدیار
نوٹ
اس مضمون کے دو حصے ہیں پہلے حصے میں ہم اسلامیات کے نصاب سے متعلق مسائل پر بحث کریں گے جبکہ دوسرے حصے میں اسلامیات کے تدریسی مسائل پر بات ہوگی۔۔۔ آئے پہلے حصے پر بات کرتے ہیں)
اسلامیات کے نصاب سے متعلقہ مسائل
دنیا کے مختلف ممالک اپنےاقدار اور تہزیبی ورثے کو
اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے مختلف مضامین کواپنے نصاب کا حصہ بناتے ہیں.۔۔ پاکستان میی خصوصاً دو مضامین "اسلامیات اور معاشرتی علوم" اسی مقصد کے لیے نصاب میں رکھے گئے ہیں.متعلقہ موضوع پر بات کرنے سے پہلے
یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ نصاب اور درسی کتب میں فرق ہوتا ہے.نصاب حکومت بناتی ہے اور مختلف پبلشرز اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ درسی کتب (ٹیکسٹ بکس) کو اسی نصاب کے مطابق تیار کریں۔۔ یہی طریقہ کار پوری دنیا کے تعلیمی نظام میں رائج ہے. .پاکستان میں کتابیں مختلف پبلشرز کی بنی ہوئ ہیں لیکن سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کا نصاب ایک ہی ہے ۔
اس وقت سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جو کتب پڑھائ جارہی ہیں' چاہے وہ گورنمنٹ ٹیکسٹ بک بورڈز کی ہو یا پرائیویٹ پبلشر ز کی بنی ہوئی ہو' یہ تمام 7-2006 کے نصاب کے مطابق بنی ہوئی ہیں. بدقسمتی سے تیرہ سال سے اس نصاب پر نظر ثانی نہیں ہوئی.حالانکہ پانچ سال کے بعد پوری دنیا میں یہ روایت ہے کہ نصاب پر نئ ضرورتوں کے مطابق نظر ثانی ہوتی ہے. ہمارے ملک میں چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کی سطح پر وزارت تعلیم میں کریکلم ونگ ختم کردیا گیا اور نصاب سازی کو براہ راست صوبوں کی عملداری میں دے دیا گیا لیکن صوبوں کے پاس چونکہ مطلوبہ مہارت نہی تھی اس لئے نظر ثانی والا کام سالوں تک تعطل کا شکار رہا۔۔.
اب پی ٹی آئی کی نئ حکومت نئے یکساں نصاب کی باتیں کررہی ہے.لیکن تا حال کوئی نیا نصاب بنا نے میں کامیاب نہیں ہوئ اور تا دم تحریر پورے پاکستان میں 2006 کی قومی تعلیمی پالیسی کے نصاب کی تدریس ہورہی ہے. اس لیے ہمارے بحث کا محور 2006 ہی کا نصاب رہے گا۔۔۔
المیہ یہ رہا کہ 2006 کے بنے ہوئے دوسرے نصاب جیسے انگریزی' سائنس یا سوشل اسٹڈیز کسی حد تک سائنسی بنیادوں پر بنائے گئے۔۔ معیارات( competencies ), حاصلات تعلم( students ' Learning outcomes ) طریقہ تدریس, اور جائزہ طریقہ کار ( Assessments Techniques )ان نصابات میں قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے.
لیکن 2006 کے اسلامیات کا نصاب انتہائ غیر پیشہ ورانہ اور مختصر بنایا گیا اور معیارات( competencies ), حاصلات تعلم( students Learning outcomes ) کی جگہ صرف عنوانات کے نام لکھے گئے،طریقہ تدریس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا اور جائزہ ( Assessments Techniques ) کا حصہ خالی رکھا گیا۔۔یہ تمام حصے کسی بھی نصاب کے بنیادی اجزاء ہوتے ہیں لیکن صرف اسلامیات کے مضموں کو ان عناصر سے محروم رکھا گیا۔۔اسلامیات کا نصاب پڑھ کر ہم آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے صاحبان اقتدار اور ماہرین تعلیم نے اس مضمون کے ساتھ کتنا سوتیلی ماں کا سارویہ رکھا ہے. .ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ
اسلامیات تیسری جماعت سے لیکر 12 ویں جماعت تک نصاب میں لازمی مضمون کے طور پر شامل ہے. پہلی جماعت سے دوسری جماعت تک اسلامیات,معاشرتی علوم اور سائنس کو ملاکر جنرل نالج کا مضمون تیار کیا گیا ہے۔۔۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ جنرل نالج میں اسلامیات کو مساوی یا کم سے کم سے کم 30 فی صد حصہ دیا جاتا لیکن بدقسمتی سے یہ حصہ جنرل نالج میں% 4 بھی نہیں ہے۔۔ اسی وجہ سے ہماری نرسری سے لیکر تیسری جماعت تک کے بچے اسلامی علوم پڑھنے سے محروم ہیں۔۔ اگر چہ یہ بحث کا ایک الگ نکتہ ہے کہ بچوں کو اسلام اور تہزیب سے جوڑنے کی یہی تو عمر ہے۔۔ باہر کے ممالک میں بچوں کو اپنے تہزیبی ورثے سے جوڑنے کے لئے اسی عمر ( 5 سے 9 سال)میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب بنو ہاشم کا کوئی بچہ بولنے کے قابل ہوجاتا تو آپ ؐ اس کو یہ آیت سات بار سکھایا کرتے: {وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌ فِى ٱلْمُلْكِ... آخر سورہ تک}
''تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے اولاد نہیں لی اور نہ بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ہے''
عربی زبان کا ایک مقولہ ہے : العلم في الصغر کالنقش علی الحجر ''بچپن کا علم پتھر پر لکیر کی مانند ہے۔''نفسیات کے ماہرین کے نزدیک انسان اپنی فکری شخصیت کا بیشترحصہ (تقریباً 80فی صد) اپنی زندگی کے پہلے عشرے میں پورا کرلیتا ہے۔۔۔۔۔
امام غزالی نے إحیاء علوم الدین میں مدرسہ(سکول) میں بچے کی تعلیم کی ترتیب بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآنِ کریم، فرامین نبویہؐ، نیک لوگوں کی حکایتیں اور فقہی احکام کی تعلیم کو پیش کیا ہے۔اللہ کی معرفت اور رسول کی محبت کی بات ہی تیسری کے بعد کیوں؟ سیکھنے کے لئے ابتدائی عمر ہی بہترین ہے
. خوش قسمتی سے ہمارے اکثر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مختلف پرائیویٹ پبلشر کی بنی کتابیں پہلی سے تیسری جماعت تک پڑھائ جاتی ہیں جو احسن اقدام ہے. لیکن سرکاری سکولوں کے بچے اس سے تا حال محروم ہیں.
اسلام صرف عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جو اپنا الگ معاشرتی, معاشی, قانونی اور سیاسی نظام رکھتا ہے لیکن ہم نے اپنے نصاب میں اسلامی فہم کو سائنس,تاریخ,معاشرتی علوم ریاضی اور شہریت سے نکال کر صرف ایک چھوٹی سی کتاب اسلامیات/ دینیات تک محدود کر کے یہ سمجھا ہے کہ ہم نے اپنا مذہبی فریضہ سر انجام دے دیا ہے اور اپنے تہزیب ورثے کے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ہے. یہ شاید سب سے بڑی غلط فہمی ہے.
افسوس کہ پوری اسلامی دنیا میں بڑی طاقتوں اور بین الاقوامی این جی اوز کے اثر و رسوخ کی وجہ سے قومی نصاب سے دینی فہم کو بے دخل کیا جارہا ہے. 9/11 کے حملے کے تحقیقاتی کمیشن نے یہ سفارش کی کہ اسلامی دنیا میں سیکولر اور لبرل تعلیمی نظام رائج کرنے کے لیے حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے اور فنڈز دیے جائے. اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف این جی اوز کو متحرک کردیا گیا ۔۔۔
اب عملاً اسلامی ممالک میں نصاب سازی,اساتزہ کی ٹریننگ اور ریسرچ کا کام بین الاقوامی این جی اوز کر رہی ہیں۔۔. ہمارے اپنے ملک میں ان اداروں کے دفاتر ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کے اندر موجود ہیں اور یہی سے وہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کو مانیٹر کررہے ہیں۔۔۔ نصاب سازی اس کام میں سرفہرست ہے. انہی بیرونی اداروں کی مدد سے کچھ ملکی این جی اوز نے نصاب پر ریسرچ پیپر جاری کروائے اور ہماری سیاسی قیادت اور میڈیا کو بڑے ہوٹلوں میں بریفنگز دی گئ، یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ پاکستان کے نصاب میں جہادی فکر موجود ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی پنپ رہی ہے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے. حالانکہ این جی اوز کے ان نصابی نظر ثانیوں کو اگر کوئی پڑھیں تو انکو صاف پتہ چل جائے گا کہ یہ بد دیانتی اور جھوٹ پر مبنی تحقیق ہے جس سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کئے گئے ہیں. حکومت نے دباؤ میں آکر حکومتی درسی کتب پر بعد میں نظر ثانی کروائ اور اس سے اسلامی فکرکے حصے کو کم سے کم کردیا گیاحتی کہ عوام میں اسلامیات کے مضمون کے خاتمے تک کی بات تک ہو رہی ہے۔۔۔اللہ نہ کرے کبھی یہ دن دیکھنا بھی ہمیں نصیب ہو۔۔۔
دوسری طرف دینی مدارس پر دباؤ ڈالا گیاکہ وہ اپنے نصاب میں کمپیوٹر, معاشرتی علوم, انگریزی اور سائنس وغیرہ کے مضامین شامل کرلیں اور کافی حد تک انکو مجبور کرکے یہ مطالبات منوا بھی لیے گئے ہیں.
انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ جس طرح مدرسوں میں عصری علوم کا اضافہ کردیا گیا ہے وہی سکولوں اور کالجوں میں دینی علوم جیسے سیرت نبوی, قرآنی علوم, اسلامی تاریخ اور فقہ سے متعلق مضامین کا بھی انتظام واہتمام کیا جاتا۔۔۔۔
پاکستان چونکہ مختلف قومیتوں کا مسکن ہے اور ان میں قدر مشترک "اسلام " ہی ہے۔۔۔اس لیے اسلامی فکر جتنا وسیع ہوگا اور اس میں جتنا اضافہ ہوگا اتنی ہی پاکستانی قومیت مضبوط ہوگی اور علاقائ تعصبات کم ہونگے، پاکستان مضبوط ہوگا اور جتنا اسلامی فکر کمزور ہوگا اتنا ہی پاکستانی قومیت کمزور ہوگی علاقائی تعصبات میں اضافہ ہوگا. اس لئے اسلامیات کے نصاب کی اہمیت صرف ایک مضمون کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے استحکام کی اساس بھی ہے. اس سے بڑھ کر یہ روحانی تربیت, کردارسازی اور قوم میں ڈسپلن پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔۔۔ ماضی میں اسلامیات کے نصاب کو نظر انداز کیا گیاہے, اسلامیات کے پڑھانے کا دورانیہ کم رکھا گیا ، اس کے اساتذہ کی ٹریننگ کابندوبست نہیں کیا گیا، جدیدانداز میں اس کے طریقہ تدریس پر توجہ نہیں دی گئ اور اس کے اساتذہ کو وہ معاشرتی مقام نہیں دیا گیا جو دوسرے مضامین کے اساتذہ کو دیا گیا ہے۔۔۔۔
اس لئے اب یہ ہونا چاہیے کہ اس ضمن میں دانستہ اور نادانستہ غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور مستقبل میں نصاب سازی کے لئے مندرجہ زیل امور کو ملحوظ خاطر رکھا جائے:
١۔۔۔
پہلی جماعت سے تیسری جماعت تک اسلامیات کو جنرل نالج سے الگ کرکے لازمی مضمون بنایا جائے.
٢)حکومت اسلامیات کے نصاب کوجدید خطوط پر استوار کرکے اس کے حاصلات تعلم کو واضح انداز میں لکھیں, ساتھ ہی پورے کریکولم فریمورک کو سائنسی بنیادوں پر مرتب کریں۔۔۔۔
٣)اساتذہ کی رہنمائی کے لیے جدید طریقہ ہائے تدریس ۔۔۔۔دلچسپ سرگرمیاں۔۔۔ ٹیکنالوجی ٹولز اور جائزے کے طریقہ کو نصاب میں شا مل کیا جائے.
۴) اسلامیات کا مضمون جدید طرز پر لکھنے والے علما اور ماہرین تعلیم کی ٹیم بنا کر ان کی خصوصی ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے۔۔۔۔اس کام کے لیے ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے
تکنیکی مشاورت کی جا سکتی جائے۔۔۔
۵)حکومت تمام سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے اسلامیات کے اساتذہ کو نصاب کا فہم پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹریننگ دے۔۔۔
٦)دوسرے مضامین جیسے
ریاضی, معاشرتی علوم, سائنس اور زبانوں میں اسلام کا بنیادی حصہ شامل کردیا جائےتاکہ طلباء میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے اسلام کا فہم پیداہو سکے۔۔۔
٧) اسلامیات کے لئے سکولوں میں پڑھانے کے دورانیے میں اضافہ کیا جائے اور اسلامیات کے اساتذہ کو وہ معاشرتی مقام دیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔۔۔۔
مجھے پوری امید ہے کہ ان باتوں پر عمل کر کے نہ صرف ہم ایک بہتر نصاب تیار کرلیں گے بلکہ اسلام کا بہتر فہم پیدا کرکے ایک ایسے معاشرے کا قیام بھی کرسکیں گے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو قائم کرتے وقت دیکھا تھا۔۔۔۔
جاری ہے)
Excellent brother
ReplyDeleteبہت ہی اعلی اللہ زور قلم اور زیادہ کریں .....
ReplyDeleteبارك الله فيك
ReplyDeleteMarvellous
ReplyDeleteDear brother your research is really amazing. I hope that responsible personals will take care of the areas you pointed out so for.
May Allah guide us the right path.
very true and to the point
ReplyDelete