تحریر: احمدیار
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حوالے سے
پاکستان میں عام آدمی کے ذہن میں کافی سارے سوالات ہیں. یہ سوالات بعض زہنوں میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کی شکل میں موجود ہیں اگر چہ میرا اپنا کوئی سکول نہی لیکن ہزاروں اداروں کے ساتھ کام کرنے اور تعلق رکھنے کی وجہ سے مجھے نہ صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مسائل کا کسی حد تک ادراک ہوگیا ہے بلکہ اس ادراک کی وجہ سے مجھے ان سوالات کا جواب بھی مل گیا ہے جو کبھی میرے زین میں تھے. میں نے ضروری سمجھا کہ ان سوالات کو جوابات کی شکل میں ان تمام لوگوں تک پہنچاوں جواپنے ذہن میں یہی سوالات رکھتے ہیں اور جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں منسلک ہیں (چاہے وہ والدین ہو, میڈیا والے ہو یا حکومتی لوگ ہو).موجودہ وبا کے دور رس اثرات کی وجہ سے ان سوالات کا جواب اور بھی ضروری ہوگیا ہے یہ سوالات اور ان کے جوابات مندرجہ زیل ہیں
سوال
کیا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا معاشرے کی ترقی میں کردار ہے.
جواب. جی ہاں پرائیویٹ سیکٹر تعلیمی اداروں نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیاں کیا ہے بلکہ حکومت کے مقابلے میں بہتر معیاری تعلیم بھی دی ہے. اس کے ساتھ ساتھ اس بے کروڑوں بچوں کا بوجھ اپنے ذمے لیکر حکومت کا بوجھ ہلکا کیا ہے.
سوال.
کیا پرائیویٹ سکول بزنس کررہے ہیں.
جواب
جی ہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایک طرح کا بزنس ہے لیکن یہ معاشرے کے لئے مفید بزنس ہے. شریعت اس کی اجازت دیتی ہے. حکومت کو ہر سال اربوں کا ٹیکس ملتا ہے. اس سے مقابلے کی فضا بنتی ہے مقابلے طلباء کو اپنے طرف کھینچنے کے لئے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے جبکہ فیسیں کم سے کم رکھی جاتی ہیں. اس سے لوگوں کو انتخاب میں آسانی ہوتی ہے. اس لیے یہ ادارے معاشرے کے لئے مفید بزنس ہے.
سوال
کیا پرائیویٹ سکول معیاری( کوالٹی) تعلیم دیں رہے ہیں.
جواب
جہ ہاں پرائیویٹ تعلیمی ادارے معیاری( کوالٹی )تعلیم دے رہے ہیں جس کا ثبوت ہر سال طلباء کے نتائج ہیں اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے چپڑاسیوں سے لیکر وزراء اور سیکریٹریز کے بچے بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے ہیں. یہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معیار کا سب سے بڑا ثبوت ہے
سوال
کیا پرائیویٹ ادارے ہیر پھیر کے ذریعے امتحانی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں.
جواب
اس سوال کا جواب ہاں میں ہوسکتا ہے شاید کچھ بڑے ادارے ایسا کرتے ہو. لیکن امتحانی عملہ حکومت کا ہوتا ہے اور امتحانی پرچہ جات کی تیاری اور چیکنگ سے لیکر نتائج تک کی تیاری کا پورا عمل حکومتی سرپرستی یعنی بورڈوں میں ہوتا ہے. اس لیے حکومت کو اس حوالے سے ہر سطح پر شفافیت اور کرپشن کو روکنے کے لیے اقدامات لینے چاہیے تاکہ مستحق طلبا ء چاہے ان کا تعلق حکومتی یا پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے ہو,کو اپنا حق ملیں.
سوال
کیا پرائیویٹ سکول لوگوں کی استطاعت سے زیادہ فیس لے رہے ہیں.
جواب.
پاکستان میں 80 فی صد تعلیمی ادارے 2000 سے کم فیس لے رہے ہیں. باقی 20.فی صد آپنے وسائل اور کوالٹی کو مد نظر رکھ زیادہ فیس چارج کررہے ہیں.یہ ادارے اگر نہ ہوتے تو شاید امیر لوگ اپنے بچے باہر بھیجتے جس سے پاکستان کا کثیر سرمایہ باہر چلا جاتا اور پاکستان کو نقصان ہوتا. پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہیں کہ جہاں پرائیویٹ تعلیم کافی سستی ہے.(اس حوالے سے ڈیٹا چیک کیا جاسکتا ہے) اس لئے زیادفیسوں والے اداروں کا ہونا بری بات نہیں.
سوال
. کیا پرائیویٹ سکول" کلاس سسٹم(طبقاتی نظام) "کا باعث بن رہے ہیں.
جواب
کلاس سسٹم ہمارے معاشرے میں ہر جگہ موجود ہے مثال کے طور پر امیر لوگ پی سی اور میرٹ جانا پسند کرتے جبکہ غریب چھوٹے ہوٹلوں میں, اس طرح امیر لوگوکے لیے جہازوں ,بسوں اور ٹرینوں میں بزنس کلاس موجود ہیں جسکی زیادہ قیمت ادا کرنے پر سہولت حاصل کی جاتی ہیں.اسی طرح امیر لوگوں کے لئے الگ ہسپتال یا سرکاری ہسپتالوں میں علحدہ بلاک ہیں اس طرح امیر بچے ایلیٹ کلاس سکولوں میں پڑھتے ہیں جبکہ متوسط اور ادنی متوسط طبقہ چھوٹے پرائیویٹ اداروں میں پڑھنے ہیں. 80 فی صد اداروں میں فیسیں 2000.تک اگلے 10 فی صد تک 3000 تک اگلے 5.فی صد کا 6000 تک جبکہ پاکستان میں چند ادارے 15000 سے اوپر فیس وصول کر رہے ہیں .اگرچہ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں تکہ ہر قسم کےاونچ نیچ کا خاتمہ ہو.
سوال.کیا پرائیویٹ ادارے مغربی کلچر اور اقدار کو فروغ دے رہیں ہیں.
جواب. جی ہاں کچھ پرائیویٹ خصوصاً الیٹ بڑی فیسوں والے ادارے اپنے مغربی نصاب, ہم نصابی سرگرمیوں اور ناچ گانوں کی پارٹیوں کے ذریعے مغربی اقدار اور کلچر کو فروغ دیں رہے ہیں. لیکن پاکستان کے اکثریتی پرائیویٹ ادارے پاکستانی اور اسلامی کلچر اور اقدار کو فروغ دے دیں رہے ہیں
سوال
کیا حکومتی سطح پر مختلف طبقات (کلاسوں) کے لئے الگ سکول ہیں.
جواب
جی ہاں حکومتی سطح پر بھی طبقاتی نظام یا کلاس سسٹم موجود ہے. حکومت نے نچلے عریب طبقے کے لے مفت سرکاری سکول قائم کئے ہیں جمیس کولٹی ااور سہولیات کاشدید بحران ہے جبکہ امیر اور اور ایلیٹ کلاس کے لئے الگ ادارے بنائے ہیں جس میں 50000 تک فیس لی جاتی ہیں. مثال کے طور پر کیڈٹ کالجز, ایچسن کالج, فضل حق کالج مردان, ایبٹ آباد پبلک سکول وغیرہ.یہ ادارے امیر طبقے کو کوالٹی تعلیم مہیا کررہے ہیں. اس کے علاوہ اب تقریباً ہر سرکاری کالج کی کم سے کم ٹیوشن فیس 6000 روپے تک بڑھ گئ ہیں اور اعلی تعلیم میں غریب طبقے کا داخلہ تقریباً رک گیا ہے.
سوال
کیا پرائیویٹ تعلیمی ادارے مختلف نصاب پڑھا رہے ہیں.
جواب.
جی نہیں. تمام حکومتی سکولوں اور پرائیویٹ سکولوں میں حکومت کا بنا ہوا 7-2006 کا نصاب لا گوں ہے. ہاں درسی کتب مختلف ہیں لیکن یہ کتب حکومتی نصاب کے مطابق ہوتی ہیں. اس حوالے سے مختلف پبلشنگ کمپنیاں حکومت سے آین او سی لیتی ہیں اور کتابیں بناتی ہیں.
سوال
کیا یکساں نصاب تعلیم اور یکساں نظام تعلیم ایک ہی چیز ہے
جواب. جی نہی. یکساں نظام تعلیم کا مطلب امیر اور غریب بچوں کے لیے ایک جیسے سکول, مراعات,نصاب اور سہولتیں ہیں اس کا سادہ مطلب تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو ایچیسن لاہور جیسا بنانا ہے. اس سے طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو جائےگا اور غریب بچوں کو آگے بڑھنے کی یکساں مواقع مل جائیں گے.
جبکہ یکساں نصاب سے مراد ملک میں موجود تمام بچوں کا ایک جیسے درسی اہداف ہیں. اس وقت سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا نصاب ایک ہیں جبکہ مدارس اور او لیول اور اور اے لیول کروانے والے اداروں جیسے سٹی اور بیکن ہاؤس کا نصاب مختلف ہیں. (یہ ادارے کیمرج یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں).اس وقت یکساں نصاب کی بات تو ہورہی ہے لیکن یکساں نظام تعلیم کی بات نہیں ہورہی .
سوال
کیا حکومت پرائیویٹ سکولوں کی مدد کرہی ہیے
جواب
نہیں. اس وقت حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو کوئی مدد فراہم نہیں کر رہی بلکہ پرائیویٹ ادارے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اپکو سنبھال رہے ہیں. دوسری طرف حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے مختلف قسم کی بھاری ٹیکس لے رہی ہیں جس کی وجہ اکثر چھوٹے تعلیمی ادارے (جو اکثریت میں ہیں) مالی طور پر مستحکم نہی ہو پاتے مختلف ممالک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت مختلف قسم کے تعاون کرتی ہیں تاکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہو اور قوم کومعیاری تعلیم دے سکیں.
سوال.
کیا پرائیویٹ سکول ٹیکس دیں رہیں ہیں.
جواب
جہ ہاں پرائیویٹ سکول حکومت (خیبر پختونخوا)کو کئی مختلف قسم کے ٹیکس دے رہے ہیں
سوال.
کیا موجودہ وبا نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو کوئ نقصان پہنچایا ہے
جواب
جی ہاں والدین کی طرف سے فیس نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں تدریسی اور غیر تدریسی عملہ بے روزگار ہوگیا ہیں. سکول مالکان کے اساتذہ ,والدین اور بلڈنگ مالکان سے تعلقات عدم ادائیگیوں کی وجہ سے مشکل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں.جو معاشرے کے لئے کسی طرح بھی نیک شگوں نہی.
سوال
اگر تعلیمی ادارے بند ہوجائے تو کیا حکومت ان اداروں کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر سکتی ہیں.
جواب
نہی کیونکہ اس وقت طلباء کی آدھی سے زیادہ تعداد پرائیویٹ اداروں میں پڑھ رہی ہیں اور سرکاری سکولوں میں اکثر جگہوں پر ایک کلاس میں سو سے زیادہ بچے ہیں. اس کے علاوہ ایک کروڑ سے زیادہ بچےاس وقت سکولوں سے باہر بھی ہیں اور تعلیم سے محروم ہیں ایسے میں حکومت اتنی بڑی تعداد میں پرائیویٹ بچوں کا بوجھ نہی سنبھال سکتی.
سوال
کیا اس صورت حال میں والدین پرائیوٹ اداروں کی مدد کرسکتے ہیں
جواب
.جی ہاں. اگر والدین فیس وقت پر ادا کریں. تو لاکھوں اساتذہ نہ صرف بے روزگاری سے بچ سکتے ہیں بلکہ ان کی غزت نفس بھی بحال ہوسکتی ہے. خبریں آرمی ہے کہ اساتذہ بے روزگاری کی وجہ سے چنگچی رکشے چلانے, فروٹ بیچنے اور مزدوری کرنے پہ مجبور ہورہے ہیں یہ ایک نیا بڑا مسئلہ اور المیہ ہے جس کا ہمارے معاشرے کو سامنا ہے.صرف ہمارے صوبے کے پی میں 124000 سے زیادہ اساتذہ متاثر ہیں. والدین کی فیس کی برقت ادائیگی پرائیویٹ اداروں کو موجودہ بحران سے نکال سکتی ہیں.
سوال
کیا حکومت اس مشکل صورت حال ( لاک ڈاون) میں پرائیویٹ اداروں کی مدد کرسکتی ہیں
جواب
جی ہاں. حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو خصوصی گرانٹ اور قرضوں کی مد میں رقم مہیا کر کے اس مشکل صورت حال سے نکال سکتی ہے.
کسی بھی معاشرے میں پرائیویٹ سیکٹر کی ترقی ملک کی ترقی ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر کا زوال ملک کا زوال ہوتا ہے. حکومت آگر چاہے تو آسانی کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو موجودہ زوال سے نکال سکتی ہے. اگر حکومت نے اس آڑے وقت میں ان اداروں کی مدد نہ کی تو لاکھوں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا روزگار اور کروڑوں بچوں کی پڑھائی خطرے میں پڑھ جائے گی.
زبردست تحریر لکھی ہے احمد یار صاحب اللہ تعالی آپکو جزائے خیر دیں ۔اور اللہ کرے کہ والدین ،حکومت وقت کی آنکھیں کھل جائیں اور اس مشکل وقت میں حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو تباہی سے بچائیں
ReplyDeletePlz mention name
DeleteVery good questioners
ReplyDeleteExtremely informative for schools owners nd also reply in very simple words for those who are having some questions about private schools.
ReplyDeleteFrom. Asghar khan
Principal The Frontier School of Excellence Pabbi
All the issues that you have highlighted are valid and their suitable solutions are considerably accurate....we all are thankful to u for this noble cause...
ReplyDeleteThankiu sir from the core of my heart. Very decent answers.
ReplyDeleteM Imad Khan principal iqra model school.
Very good Ahmad Yar sb, you gently answered almost all questions asked by most of the peoples around us.
ReplyDeleteNaveed Alam Tareen.
https://www.ansicollege.net