(تحریر احمدیار (ایسوسی ایٹ زون ہیڈ افاق مردان
اس دوسرے اور آخری حصے میں ہم تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے درسی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کریںگے.
تدریس اسلامیات سے متعلقہ کئ مسائل ہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہی ہو رہے. یہ مسائل نصاب ,جدید طریقہ تدریس ,جائزوں کے طریقوں , جدید ٹیکنالوجیکل ٹولز اور 21 ویں صدی کی مہارتوں سے ناواقف ,نفس مضمون پر عبور طلباء کے لئے مختلف دلچسپ سرگرمیوں اور اساتذہ کی ٹریننگ کا نہ ہونا ہیں. آئیۓ ان مسائل کو قدرے تفصیل کے ساتھ دیکھتے ہیں.
نصاب کا فہم
میں اکثر اپنے ٹریننگز میں اساتذہ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ میں سے کس نے اسلامیات کا حکومتی نصاب پڑھا ہے بدقسمتی سے اکثر 40 یا 50 بندوں کی کلاس میں ایک ہاتھ بھی ہاں کے طور پر نہی اٹھتا. جب تک ایک مدرس اپنے مضموں کا نصاب نہی پڑھتا اس وقت تک اس کو اپنے متعلقہ مضمون کے خدو خال کا پتہ نہی چلتا. حکومت پاکستان نے اساتذہ کے لیے جو دس معیارات ( National Professional Standards For Teachers In Pakistan) متعین کئے ہیں ان میں پہلا سٹینڈرڈ نصاب کے فہم کے بارے میں ہے یعنی ہر استاد کو اپنے مضموں کے فریمورک کا علم ہونا چاہئے. لیکن اکثر اساتذہ کو نصاب کے فریم ورک کا علم نہی ہوتا. اب جبکہ حکومت حاصلا ت تعلم کے مطابق تدریس اور جائزے (SlO Based Teaching And Assessment )کی طرف جارہی ہے اسی لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اساتزہ نصاب کا علم اور فہم حاصل کریں.
جدید طریقہ ہائے تدریس اور تدریس اسلامیات
ہمارے اکثر سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں اسلامیات اردو کے مضمون کے طرز پر پڑھایا جاتا ہے استاد کتاب ہاتھ میں لئے ڈائس پر کھڑے ہوکر مادری زبان میں متعلقہ مضمون کا ترجمہ کرتا ہے مشکل الفاظ کے معنی بورڈ پر لکھتا ہے. سوالات کاپیوں میں لکھوا کر رٹٹواتا ہے. زیادہ تر تقریری طریقہ تدریس (لیکچر میتھڈ) کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی مسجد کے خطبے اور کلاس لیکچر میں کوئی خاص فرق نہی ہوتا بس وہاں سننے والے بڑے جبکہ یہاں سننے والے بچے یا نوجوان ہوتے ہیں.ان تمام فرسودہ طریقوں کی وجہ سے بچوں کے لیے اسلامیات کے موضوعات بوریت کا سبب بنتے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ دلچسپ طریقوں سے اسلام کا فہم پیدا کرلیں وہ ایک بوریت والے کلاس امتحان کی تیاری کررہے ہوتے ہیں.بجائے اس کےکہ تقویٰ کے موضوع سے استاد بچوں میں تقوی پیدا کرنے کی کوشش کریں مگر وہ تقوی کا سوال یاد کرواتا ہے اور کامیابی اصل میں سوال یاد کرنے کو سمجھی جاتی ہے نہ کہ تقوی میں اضافے کو جو اصل مقصد ہے.
استاد کو چاہیے کہ جدید طریقہ تدریس جیسے پراجیکٹ بیسڈ لرننگ, بلنڈڈ لرننگ, فلپڈ کلاسروم, گیمفیکیشن, کمپیٹنسی بیسڈ لرننگ,کیلری واک,جگسا اور گروپ ڈکشن وغیرہ سے آگاہی حاصل کرےاور اسلامیات کی تدریس کو دلچسپ بنانے تاکہ اس مضمون کے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوسکیں
جائزوں کے جدید طریقوں کا علم نہ ہونا
جائزہ تدریس کے عمل کا انتہائی اہم عنصر ہے. جائزے سے ایک مدرس یہ جان سکتا ہے کہ تدریس کے مقاصد کس حد تک حاصل ہورہے ہیں.بدقسمتی سے ہمارے ہاں جائزے ( Assessment ) کے عمل پر ٹریننگ کا فقدان ہیں اور اکثر اساتذہ Formative Assessment ,Summative Assessment اور بلوم ٹیکسانوی جیسے جائزے کے بنیادی عناصر سے ناواقف ہوتے ہیں ان کو نہ صرف ان اہم عناصر سے واقفیت حاصل کرنی ہے ,بلک نئے جائزے کے طریقوں جیسے Focused listening,
Muddiest point,ایک منٹ کا پرچہ, ذہنی نقشے concept Mapping
Memory Matrics, ,Quick Shower, 3-2-1 فارمیٹ
وغیرہ.سے بھی واقفیت حاصل کرنی چاہیے.اساتزہ جائزے Assessment پر مختلف مواد پڑھیں ,دیکھیں اور ٹریننگ حاصل کریں تاکہ تدریس مزید موثر ثابت ہو.
جدید ٹیکنالوجیکل ٹولز کا پتہ نہ ہونا.
آج کے اساتذہ خوش قسمت ہیں کہ پڑھنے اور تیاری کے لیے ان کو مختلف قسم کے وسائل ( Resources )اور ٹولزدستیاب ہیں. یہ مختلف ٹولز دلچسپ ایپس کی شکل میں جیسے تدریس قرآن, سیرت, جغرافیہ حدیث, تاریخ پر, لرننگ مینجمنٹ سسٹم, ورچول لائبریریوں اور ویڈیوز کی شکل میں موجود ہیں اس کے ساتھ ساتھ ڈسٹنس لرننگ کے لئے نہایت موثر ٹولز بھی موجود ہیں. اساتذہ ان ٹولز میں دلچسپی لیں تاکہ خود بھی ان سے استفادہ کریں اور بچے بھی مستفید ہو.
نفس مضموں ہر عبور کا مسئلہ
کئ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں اسلامیات کے مضمون کو آسان سمجھ کر ایسے اساتذہ کے حوالے کیا جاتا ہے جو اس مضمون کے حوالے مطلوبہ معلومات اور رویہ نہی رکھتے. ایسے اساتذہ کو اسلامیات کی تدریس حوالے کرنا زیادتی ہے۔
پاکستان میں اسلامیات کا نصاب قرآنی علوم, حدیث, فقہ ,اخلاق و آداب اور تاریخ اسلام (سیرت طیبہ,مشاہیر اسلام) پر مشتمل ہوتا ہے. اس لیے وہ اساتذہ جو مدارس سے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں انکا قرآن, حدیث فقہ پر عبور تو ہوتا ہے لیکن جغرافیہ اور تاریخ اور ان کے باہمی ربط میں قدرے کمزوری ہوتی ہیں کیونکہ یہ مضامیں مدرسوں میں نہی پڑھائے جاتے, لیکن ان اساتذہ کے ساتھ تھوڑے سے مطالعے اور ٹریننگ کی محنت سے یہ کمی دور کی جاسکتی ہے. تاریخ کی بہتر تدریس کے لئے جغرافیہ کا علم بہت ضروری ہے. اسلامیات کےمعلم کو نئے اور پرانے نقشوں اور جگہوں کے نئے اور پرانے ناموں کا علم ہونا چاہیے تاکہ بچوں کو ماضی اور حال کو جوڑنے میں آسانی ہو.
دلچسپ تدریسی سرگرمیاں
ہمارے اکثر سکولوں میں چونکہ سارا سال امتحانات کی تیاری ہورہی ہوتی ہیں اس لئے بچوں کے لیے دلچسپ سرگرمیوں کو حصوصاً اسلامیات میں, وقت کا ضیاع تصور کیا جاتا ہے اگر کہی سرگرمیاں ہوتی بھی ہیں تو وہ انگریزی سائنس یا میتھس کے مضمون میں ہوتی ہیں اسلامیات میں تصور کر لیا گیا ہے کہ اس کے تدریسی مقاصد کلاس میں مختلف تقاریر اور خطبوں سے حاصل کیے جائینگے اسی وجہ سے تدریسی اسلامیات ایک بے جان چیز بن گئ ہے جس میں نئ نسل کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہیں
اس لیے میری تجویز ہے کہ اسلامیات کے اساتذہ اپنے تدریس کو مختلف سرگرمیوں جیسے گیمز, مقابلوں, ویڈیوز,جاندار بحثوں, ماڈلز, پراجیکٹس کمپیٹشنز,نمائشوں, اسلامی تاریخ کے اہم ایام کو منانے اور مطالعاتی دوروں سے دلچسپ بنائیی
ں21 سویں صدی کی بنیادی خواندگی
خواندگی کی تعریف مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہے. اکیسویں صدی کی خواندگی ( literacy) اصل میں
(information literacy) معلومات کی خاوندگی, media literacy میڈیا خواندگی technology literacy,اور ٹیکنالوجی خواندگی ہے
اسلامیات کے اساتذہ کو بہتر طریقے سے پڑھانے کے لئے آن بنیادی خواندگیوں کا علم ہونا ضروری ہیں.
اگر وہ ان خواندگی سے ناواقف ہے تو پھر وہ آج کے دور کا ناخواندہ ہے.
درسی کتب کی تدریس
پاکستان میں درسی کتب کی تدریس میں کئ مسائل ہیں. اساتذہ درسی کتب کی معلومات سے اضافی معلومات اور سکلز نہی دیتے.درسی کتب کے معلومات اکثر پرانے ہوتے ہیں.میں نے اپنے بچے ایک دن مکہ پر مضمون پڑھتے دیکھا تو میں نے مکہ کی آبادی کے حوالے سے سوال پوچھا, اس نے مجھے کتاب میں مکہ کے پانچ سال پہلے والی آبادی کے اعداد و شمار بتائے. اساتذہ کو چاہئے کہ بچو
کو درسی کتاب کے علاوہ بھی جدید معلومات دیں اور مطلوبہ موضوعات کو آج کے تازہ معلومات اور مسائل سے جوڑیں تاکہ ماضی اور حال کا آپس میں جوڑ بھی پیدا ہو اوعملی زندگی سے تعلق بھی. اسلامیات کی تدریس کا اہم چیلنج موضوعات کا آجکل کے مسائل سے ربط پیدا کرنا ہے. اس کے علاوہ استاد کلاس میں آنے سے پہلے حاصلات تعلم(Student Learning Outcomes) پڑھیں, اس پر بنے مواد کے حوالے سےجدید معلومات اکٹھی کریں مختلف دلچسپ سرگرمیاں اور جائزہ تیار کریں آخر میں اسی SlO یا موضوع پر ایسا ہوم ورک دیں جس میں بچہ کچھ نیا معلوم کرنی کی کوشش کریں اور تحقیق کریں.ہوم ورک سرف مشقی سوالات لکھوانا اور یاد کروانا نہی ہوتا بلکہ بچوں کو کچھ اپنی طرف سے نیا کرنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے.
مضموں کے اخر میں میں معلمیں اسلامیات سے درخواست کرونگا کہ اپنے اپکو طلب علم سمجھیں , پڑھیں, ٹریننگ حاصل کریں, دور حاضر کے مسائل پر نظر رکھیں اور دور جدید میں اسلام اور مسلمانوں کو ہر قسم کے چیلنجز سے اپنے اپکو آگاہ رکھیں .وہ سرف اسلامیات کا مدرس نہ ہو بلکہ سوشل سائنٹسٹ (Social Scientists ) بھی ہو اور اس میں یہ اہلیت ہو کہ جدید مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں دیکھ سکتا ہو.
.وہ اپنے اپکو طلباء اور دوسرے لوگوں کے سامنے اسلام کا عملی نمونہ بھی پیش کریں.
وہ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ اس کی تنخواہ کتنی ہے. اگر مدرسوں میں اساتذہ اللہ کی دین کی ترویج اور سربلندی کی خاطر مفت ,رضاکارانہ طور یا چند ہزار روپے درس و تدریس کا عمل جاری رکھ سکتے تو اسلامیات کے اساتذہ اسی جذبے کے ساتھ سکولوں میں کیوں نہی پڑھا سکتے اگر چہ میرا حکومت اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان سے درخواست ہے کہ اسلامیات کے اساتذہ کو زیادہ تنخوا دیں تاکہ وہ دین کی خدمت معاشرتی پریشانیوں سے آزاد ہوکر کریں.
Thanx sir zaberdadt , explain plz the abb of SIO.
ReplyDeleteStudent Learning Outcomes - SLOs or objective of learning and lesson
ReplyDeleteVery well Ahmed yar Sb👌👍
ReplyDelete