تحریر: احمدیار
خود اعتمادی نہ صرف بچے کی بہتر شخصیت کے لئے ضروری ہیں بلکہ مختلف ریسرچ ثابت کرتں ہیں کہ اس کا تعلق براہ راست urبچے کی کامیابی کے ساتھ ہے اس کےعلاوہ خوداعتمادی سیکھنے کے عمل کے لیے بنیادی ضرورت ہے. والدین کی ہمیشہ خواہش ہوتی ہیں کہ ان کے بچے پر اعتماد ہو. اس لیے اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ چھوٹی عمر ہی سے ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے بچوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو. اس مضمون میں ہم ایسے چند ضروری اقدامات کا تزکرہ کریں گے جس کے ذریعے اساتذہ کلاس روم کے اندر بچے کی خوداعتمادی میں اضافہ کر سکتے ہیں. یہ اقدامات مندرجہ زیل ہیں.
بچے کی بات کو غور سے سننا
اگر بچہ کلاس میں کوئی سوال کریں, اپنی ضرورت کا ذکر کریں, یا اپنی کسی پریشانی کا اظہار کریں تو اس کی بات کو غور سے سنا جائے. جب بچے کو محسوس ہوگا کہ استاد اس کی بات کو غور سے سن رہا ہے اور اس کو اہمیت دے رہا ہے. تو اس کے اعتماد میں اضافہ بھی ہوگا اور اس میں احساس کمتری بھی پیدا نہی ہوگی اور اس کی نظر میں استاد کی عزت واحترام میں بھی اضافہ ہوگا
کامیابی کے مواقع بڑھانا.
استاد کو کلاس میں ایسے مواقعوں کا اہتمام کرنا چاہیے جس میں بچہ اپنے اپکو کامیاب اور فاتح تصور کریں مثلا
بچوں کوانکے استطاعت کے مطابق ہوم ورک دینا, دلچسپ عام فہم اور بچوں کی دلچسپی کے مطابق کلاس سرگرمیاں کروانا اور تکمیل پر حوصلہ افزائی کرنا, آسان اور دلچسپ اور بچوں کی اہلیت کے مطابق سوالات اور جوابات پر تحسین کے الفاظ ادا کرنا.
حوصلہ افزائی کے محصوص الفاظ.
انگریزی اور اردو زبان کے
کچھ الفاظ ایسے ہیں کہ اگر یہ کلاس روم میں بار, بار بولےجائیں تو بچے کے اعتماد اور استطاعت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے, جیسے شاندار, بہترین, زبردست, ماشاءاللہ Excellent, Great work, Very good,Awsome, what a great piece
work,Magnificent وغیرہ.
شرمندگی کے موقع کم کرنا.
ہمارے کلاس روم میں اکثر ایسے موقع پیش آتے ہیں جس میں بچےاپنے اپکو شرمندہ(Embarrassed) محسوس کرتے ہیں. مثال کے طور پر استاد کمزور بچوں سے مشکل سوالات پوچھتاہے, زیادہ ہوم ورک دیتاہے جو بچے مکمل نہی کرسکتے,اور جب استاد یا بچے کسی بات پر مذاق اڑاتے ہیں, استاد چھوٹی باتوں پر غصہ ہوتا ہے. آس کے علاوہ اکثر چھوٹے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جب بچے کی فیس ادا نہی ہوتی تو انکو ڈانٹا جاتا ہے, مارا جاتا ہے اور مختلف طریقوں سے بچوں کی تزلیل کی جاتی ہیں اور شرمندہ کیا جاتا ہے حالانکہ فیس نہ لانے کی غلطی والدین کی ہوتی ہے نہ کہ بچوں کی. اسلیے یہ خیال رکھا جائے کہ اس حوالے سے جتنی سختی ہو والدین تک محدود رہیں اور لین دین کے مسائل والدین اور سکول والوں کے درمیان ہو بچہ ذہنی طور پر ان پریشانیوں سے آزاد ہو اس کے علاوہ والدین کے ساتھ رابطوں کا زرہعہ بچہ نہ ہو بلکہ دوسرے زرائع ہو.
استاد کی اپنی خوداعتمادی.
بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ استاد خود "پر اعتماد' ہو اس لئے وہ کلاس میں پر وقار لباس پہنیں,پروقار طرز گفتگو اختیار کریں ,مثبت رویہ رکھیں صفائی ,جسمانی ورزش کا خاص خیال رکھیں, روزمرہ مطالعہ کو اپنا معمول بنائیں,کلاس میں آنے سے پہلے اپنے موضوع کے لئے خوب تیاری کریں. یہ تمام اِقدامات استاد کے خوداعتمادی کا باعث بنیں گے جو آگے جا کر بچوں پر اثر انداز ہونگے.
موثر تدریس.
استاد موضوعات کو دلچسپ طریقے سے پڑھائیں, درسی معاونت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں, موضوع کو عملی مثالوں, جدید اعدادوشمار, دلچسپ سرگرمیوں تخلیقی اور دلچسپ سوالات اور بچوں کی زندگیوں سے جوڑ کے دلچسپ بنائیں.
بچوں کو مختلف زمہ داریاں دینا
بچوں کو مختلف زمہ داریاں دینے سے بھی بھی انکے خود اعتمادی ور قائدانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے. بچوں کو جب زمرہ داری دی جاتی ہیں تو انکو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا استاد انکی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ اس زمہ داریاری کے اہل ہیں پھر جب زمرہ داری بہتر طریقے سے ادا ہوتی ہے اور ساتھ اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو ان کے اعتماد کو مزید چار چاند لگ جاتے ہیں.
بچوں کو سیلف منیجمنٹ سکھانا.
بچوں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے, کتابوں اور کاپیوں اور دوسری سٹیشنری کی چیزوں کا استعمال, لباس اور انفرادی استعمال کی چیزوں کا خیال اہداف کا تعین, اہداف کے مطابق اپنی کارکردگی کا جائزہ, وقت کا بہتر استعمال, سٹڈی سکلز ,گفتگو کے طریقے, کھانے اور صفائی کے عادات وغیرہ سکھانے سے بھی نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انکی زندگی میں بڑی کامیابیوں کے باعث بنتے ہیں.
بہترین تحریر ہے۔بچوں کی نفسیات کو سمجھنےمیں نہایت کارآمدرہےگا
ReplyDeleteزبردست اس سے استاد اور شاگرد کو درپیش مسائل کے خاتمے میں مدد ملے گی.
ReplyDelete