علماء امت میں تقسیم کا باعث نہ بنیں

تحریر:احمدیار

علماء انبیاء کے وارث ہیں, اور پیغمبروں کے بعد اسلام کے مشعل اور جھنڈے کو انہوں نے نامساعد حالات میں تھامے رکھنا ہے. عام مسلمان دین  کی رہنمائی کے لئے انہی کی طرف دیکھتے ہیں.
لیکن بدقسمتی سے آجکل اکثر علماء خود ہی دین کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں. اس لیے
علماء سے میری درخواست ہے کہ وہ بریلوی,دیوبندی اہلحدیث, پنج پیریوں,جماعت کے ہم فکر یا تبلیغیوں وغیرہ  میں تقسیم نہ ہو. ایک دوسرے کو منافق, علماء سو ء یا کافر نہ کہے, نہ ہی اپنے مدرسے کے طلباء کا ذہن دوسرے مسالک کے علماء کے خلاف بنائیں.اب سوشل میڈیا کی وجہ  سے یہ اختلاف اپنے حدوں کو چھو رہاہے.  یہ کام اب اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ علماء سے بدظن اور علماء کے خلاف ہوگیا ہے. علماء کااثر اور ادب اس وجہ سے ختم ہو رہا ہے. اور لوگ لبرل سیکولر اور لادین بنتے جاریے ہیں. ان کا خیال ہے کہ علماء جنہوں نے مسلمانوں کو متحد کرنا تھا اب خود مسلمانوں کی تقسیم کا باعث  بن رہے ہیں. علماء کا اثر اب کم تعلیم یافتہ قبائلی اور دیہاتی علاقوں کے لوگوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے.
 اور اس سبب اسلام اور اسلام پسند دونوں بدنام ہوتے جارہےہیں.
یہی وقت ہے کہ علماء اپنی کندھوں پر بھاری ذمہ داریوں کا ادراک کریں.,مدرسوں, خطبوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو برا بھلا نہ کہے. اتحاد, امن اور آشتی کا درس دے,جدید معاشرتی مسائل کو سمجھے اور اس پر تحقیق  کریں اپنے بہترین کردار سے اسلام کے فروغ اور سربلندی میں اپنا کردار ادا کریں. اگر علماء نے اس حوالے سے اپنا رول ادا کردیا تو انقلاب خود ہی ہمارے قدم چھومے گی. اور اسلام جو خود ی اپنے اندر جاذبیت  توانائی اور پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے انشاءاللہ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرے گا.

Comments