آئیے پولیس کی قربانیوں کا اعتراف کریں

 تحریر :احمدیار
اقبال شہید سے میری پہلی ملاقات الف ایجوکیشن سسٹم مندنی میں ہوئ جہاں پرویز صاحب نے مجھے اقبال شہید, امجد صاحب اور کچھ اور دوستوں کو ایک دعوت پر بلایا تھا. اقبال صاحب کے ساتھ گفتگو میں پولیس ڈیپارٹمنٹ اور مختلف معاشرتی مسائل پہ سیرحاصل گفتگو ہوئ. مجھے یہ جان کر انتہائ خوشی ہوئی کہ ایک جوان پولیس آفیسر کو اپنے معاشرے اور ڈیپارٹمنٹ کے مختلف مسائل کا نہ صرف ادراک تھا بلکہ  مختلف مسائل کے حل میں اپنے کردار سے بھی خوب واقف تھا. گزشتہ روز اسنے اپنے فرائض منصبی کو نبھاتے ہوئے صوابی میں مجرموں کے ساتھ ایک مقابلے میں جام شہادت نوش کیا. آج یوم شہداء کے سلسلے میں مجھے اقبال شہید کی وہ ملاقات اور اس کی گفتگو یاد آئ اور میرا جی چاہا کہ آج کے دن میں اپنے  الفاظ سے پولیس کی قربانیوں کا کچھ اعتراف کرلوں.
اقبال شہید کے طرح دہشت گردی اور دوسرے جرائم کے خلاف پولیس کی ہزاروں شہادتیں اور بھی ہیں لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پولیس کی قربانیوں کی وہ قدر نہیں کی گئی جو ہونی چاہئیں  تھی. شاید دنیا کی تاریخ میں یہ واحد پولیس ہیں جنہوں نے اپنے فرائض منصبی کے دوران کئی خودکش حملہ آوروں کو گلےلگا کے روکا حالانکہ انہیں پتہ تھا کہ اس عمل سے ان کی جان جائے گی. دنیا کی تاریخ میں پولیس کے محکمے کو اتنے بڑے چیلنج کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا  جو ہمارے پولیس اور خصوصاً خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کرنا پڑا.2018 کے خاتمے تک ہمارے صوبےکے پولیس کے 17 سو تک اہلکار شہید ہوئے جس میں سپاہی رینک سے لیکر ڈی آئ جی درجہ تک اہلکار شامل تھے. 
پولیس شاید وہ بدقسمت محکمہ جس کا عوام میں اچھا امیج بنانے کے لیے آئی ایس پی آر طرز کا کوئی اپنا ادارہ یا ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے اس لئے ہزاروں قربانیوں کے باوجود ہماری پولیس کی قربانیوں کا عوامی سطح یا حکومتی سطح پر وہ اعتراف نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق ہے یہ اعتراف نہ ہونے کی وجہ سے پولیس الٹا عوام میں ایک کرپٹ محکمے کے طور مشہور ہے. جب آپ اتنی بڑی قربانیوں کا اعتراف نہیں کر تے, تو قدرتی طور مزید قربانیوں کا اور دل سے کام کرنے کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے.
آخر میں میں اپنی حکومت کو تجویز دونگا کہ پولیس کو مزید اختیارات دیں,پولیس پر سیاستدانوں کا دباؤ ختم کرنے کیلئے قانون سازی کریں , پولیس کو سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے نوکروں کے طور پر استعمال کرنا بند کردیاجائے , پولیس کے تربیتی نظام میں بہتری لائی جائے اور پولیس کو تفتیش کے لئے جدید مطلوبہ آلات اور ٹریننگ دی جائے.اگر حکومت یہ اقدامات کرلیں تو ہماری پولیس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ہمارے معاشرے کو امن امان کے لحاظ سے مثالی معاشرہ بنائیں .
آئیں آج یوم شہداء کے موقع پر ہم نہ صرف  اپنے پولیس بھائیوں کے قربانیوں کا اعتراف بھی کریں بلکہ  ان کی قدر بھی کریں اور ان سے محبت بھی کریں.

Comments