تحریر : احمدیار
پاکستان میں تقریباً آدھے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں. یہ وہ بچے ہیں جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کم فیس بھی ادا نہیں کر سکتے آور مجبوراً انکو سرکاری سکولوں کا انتخاب کرنا پڑتاہے.. جو لوگ تھوڑی سی بھی استطاعت رکھتے ہیں وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں,اس لئے سرکاری سکولوں میں وہ بچے جمع ہوگئے ہیں جو نچلے درجے کے انتہائی غریب بچے ہیں.
لیکن حکومت نے ان کے لئے جو سکول قائم کئے ہیں وہ ہر قسم کی سہولیات سے محروم ہیں, کہی چار دیواری نہی, تو کہی بیٹھنے کے لئے کرسی یا بنچ نہی, کہی کمروں کی کمی تو کہی باتھ روم نہی, کہی بجلی نہیں تو کہی لائبریری نہی. ایک کلاس میں بعض اوقات سو سے زیادہ بچے ہوتے ہیں.اب اگر ایک کلاس میں ستر اسی بچے ٹاٹ پر گرمی سردی میں ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں پڑھائ کا کیا حال ہوگا.
دوسری طرف حکومت نے امیر یا مڈل کلاس طبقے کے لیے جو سکول بنائے ہیں ان میں ہر قسم کی سہولیات ہیں جیسے ایچسن کالج کیڈٹ کالجز, کیڈٹ کالجز, فضل حق کالج, اکرم خان درانی سکول وغیرہ. گویا حکومت خود ایک طبقاتی نظام کو فروغ دے رہی ہے.
سہولیات کے علاوہ سرکاری سکولوں میں ٹریننگ, تدریس,امتحانات اور احتساب کے نظام کا معیار بھی کبھی توجہ کا مرکز نہی رہا جس کی وجہ سے غریب عوام کے بچے معیاری تعلیم کے حق سے مسلسل محروم ہیں.
اس کے علاوہ سرکاری سکولوں عمارت بننی ہو, فرنیچر خریدنا ہو, مرمت ہونی ہو, والدین کے لئے فنڈ ہو سرکاری عملہ کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے ہیں اور نتیجے میں غریب بچوں کی قسمت میں غیر معیاری بلڈنگ,غیر معیاری فرنیچر,غیر معیاری کتب اور غیر معیاری سہولتیں ,اور اس دھندے میں چھوٹے افسروں اور ٹھیکیداروں سے لیکر بڑے افسر وزراء تک ملوث ہوتے ہیں. پس یہاں بھی محروم بچوں کی محرومی.
اس پورے عمل میں ایک مثبت چیز اور امید کی واحد کرن آجکل ان بچوں کے لیے اگر کوئی ہیں تو وہ اچھے اساتذہ کی ریکروٹمنٹ ہیں.. اس لیے میری اساتذہ سے براہراست درخواست ہے کہ ان غریب اور محروم بچوں کا واحد سہارا آپ ہیں. آپ نے بھی اگر ان کو توجہ نہ دی,اپ نے بھی اگر ان سے منہ موڑا, اپنا وقت ضائع کیا, لگن اور محنت سے کام نہی کیا ان کو اپنے بچے نہی سمجھا تو ان بچوں کا اللہ ہی حافظ ہے.
میں جانتا ہوں ان سکولوں میں حالات نا مساعد ہیں, کلاس میں بچوں کی تعداد زیادہ ہیں پڑھنانے کے لیے مناسب سہولیات نہی ہیں, والدین کا تعاون نہی ہے, حکومت کی دلچسپی نہی ہے. لیکن پھر بھی آپکی لگن محنت اور خلوص ان بچوں کی زندگی میں انقلاب لاسکتا ہے.ان محروم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہم نہ صرف انکی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ انہیں معاشرے, ملک اور امت کا بہترین سرمایہ بنا سکتے ہیں.
ایئے ہم اپنے ان محروم بچوں کا سہارا بنیں.
Comments
Post a Comment