پہلے 7سال تک کی عمر کے بچوں کی تربیت



:تحریر
احمدیار
ماہر نفسیات بچے کے اس حصے کی عمر کو تربیتی لحاظ سےNursing age کہتے ہیں.اس کا مطلب ہے کہ والدین اس عمر کے بچوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں گے جیسے نرس ایک مریض کیساتھ اختیار کرتی ہے۔

تربیت کے لحاظ سے بچے کی یہ عمر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔بچےکی جسمانی ،نفسیاتی اور دماغی نشو نما  انتہائی تیزی کے ساتھ ہوتی ہے۔دماغی نشونما تو حیران کن طریقے سے تیز ہوتی ہے۔سچ کہا جائے تو اصل میں تربیت کی عمر یہی ہے۔
بعض ماہرین کے نزدیک بچے کی %80 شخصیت اس عمر میں مکمل ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر بروس لفٹن(Dr.Bruce lipton) کے مطابق بچے کی% 95 شخصیت اس عمر میں مکمل ہوجاتی ہے۔
عربوں کو اس عمرکی اہمیت کا احساس تھا اس لیے وہ اپنےبچوں کو شہری ماحول سے دور  دیہاتی علاقوں میں بھیجتے تھے۔
ارسطو نے اس عمر کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ آپ مجھے ایک بچہ سات سال تک دیں میں آپکو  آدمی بنا کردے  دونگا۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق بچے کے پہلے 3 سال میں ہر منٹ میں 30 لاکھ تک نیوران کنکشن بنتے ہیں۔ماہر نفسیات ہیلری جیکب(Hilary Jacobs)کہتی ہے کہ نیوران کنکشن ایک درخت کی جڑوں کی طرح ہوتے ہیں،ایک ایسی بنیاد جس سے تقریبا تمام نشونما ہوتی ہے۔
(Neural connections are like the roots of a tree, the foundation from which all growth occurs,” she says.)
2 سال تک تقریبا %80 جبکہ 5 سال تک  %90 تک ذہنی نشو نما اورجسامت مکمل ہوجاتی ہے۔
زبان سیکھنے کی صلاحیت اتنی تیز ہوتی ہے کہ 2 سے 5 سال تک کے درمیان بچہ روزانہ تقریبا 60 نئے الفاظ سیکھتا ہے۔یہ رفتار پھر ہماری زندگی میں کبھی حاصل نہیں ہو پاتی۔
اس عمر میں بچہ شعوری طور پر نہیں سیکھتا۔وہ اپنے ماحول سے صرف چیزیں ریکارڈ کرتا ہے۔وہ اگر مثبت چیزیں دیکھے گا تو مثبت ریکارڈنگ ہوگی منفی چیزیں دیکھے گا منفی ریکارڈنگ ہوگی۔اس کے ذہن میں چیزوں کے بارےمیں ایسی پروگرامنگ ہوتی ہے جیسے کمپیوٹر میں ہوتی ہے۔کمپیوٹر پروگرامنگ بنتی مشکل سے ہے لیکن ایک دفعہ پروگرامنگ ہوجائے پھر یہ چیزوں کو کرنا آسان بنا دیتا ہے۔اس طرح بچوں کے ذہنوں میں بھی  ایمانداری،سچای ،غصے ،جھوٹ ،نفرت تشدد اور ایسے بہت سے منفی اور مثبت چیزوں کی پروگرامنگ ہوجاتی ہے جن کو بعدمیں تبدیل کرنا انتہائی مشکل محنت والا اور کٹھن کام ہوتاہے۔
اس لیے والدین یہ ذہن میں رکھیں کہ جب وہ گھر میں بچوں کے سامنے ہوتے ہیں تو اصل میں وہ ایک ریڈ زون والے ماحول میں ہوتے ہیں جن کی ہر اک حرکت کیمروں میں ریکارڈ ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے بچے کے ذہن میں پروگرامنگ ہوتی ہے۔اگر والدین جھوٹ بولیں گے تو بچوں کے ذہن میں یہ نارمل رویے کے طور پر ریکارڈ ہوجاتا ہے اور وہ بھی جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔اگر والدین چھوٹی چھوٹی چیزوں پر غصہ ہوتے ہیں تو نتیجتا بچے کی غصے والی پروگرامنگ ہوتی ہے اور وہ بھی غصے والا بنتا ہے۔اس لیے والدین کو خود پہلے مثبت رویے نمونے کے طور پیش کرنا پڑیں گے۔ہاں اس میں منافقت نہیں چلے گی والدین کواصل میں اچھا اور نیک بننا پڑے گا۔
یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ نیک والدین کے بچے اکثر نیک ہوتے ہیں اور اگروالدین نیک نظر آتے ہیں لیکن بچے بگڑے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ  والدین یا تو نیک بننے کی اداکاری کررہے ہیں یاگھر میں حرام کمائی آرہی ہے۔
اس عمر کے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے والدین
اس عمر کے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے والدین مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں :
1۔بچوں پر زبردستی ڈسپلن لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں۔بلکہ بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا رویہ رکھیں.
2۔بچوں کو کھیل کود اور جسمانی ورزشوں کے مواقع فراہم کریں کیونکہ جسمانی نشونما اس عمر میں تیز ہوتی ہے۔پیپسی ،کوک وغیرہ جیسے مشروبات اور چپس کی عادت نہ ڈالیں
3۔گھر میں سوال وجواب کے ذریعے سیکھنے کا ماحول بنائیں مثال کے طور پر
 وہ بچوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ گھر میں کتنے کمرے ہیں یا کتنے  افراد ہیں ۔یا اگر سائیکل کا پہیہ گول نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔
یا ہم صفائ نہیں کرینگے تو کیا نقصان ہوگا۔یا اگر کسی تقریب یا سیر سے واپس آئیں تو والدین پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اچھا لگا یا کیا اچھا نہیں لگا یا آپ نے کیا سیکھا۔اس قسم کے سوالات سے بچوں میں غوروفکر کا مادہ اور تخلیقی صلاحیتیں  پیدا ہونگی۔گویا گھر میں کھانا پینا ہو ،کچن ہو یا کھیل ہو ان تمام موقعوں کو سیکھنے والے مواقع بنائے جاسکتےہیں۔
3۔اس عمر میں بچوں کو دعائیں، کلمے اور حدیثیں یاد کروانے کی کوشش کریں اور عملی صورت حال میں اس کو لاگو کرنے کی کوشش کریں جیسے کھاتے ہوئے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کھانے کی کیا دعائیں ہیں۔بچوں کو ماشااللہ،ان شااللہ
،الحمد للہ سبحان اللہ کے کلمے یاد بھی کروائیں معنی بھی سمجھائیں اور خود بھی انکے سامنے بولنے کی روایت ڈالیں۔
4۔میاں بیوی بچوں کےسامنے جھگڑے نہ کریں ، نہ گالیاں دیں، نہ ایک دوسرے کی  
بےعزتی یا کردارکشی کریں۔اگر ان باتوں کا خیال نہیں رکھیں گے تو بچے بھی مستقبل میں والدین کی عزت نہیں کریں گے ۔
5۔بچوں کی اچھی عادتیں بنائیں ۔یہی عادتیں بننے کی عمر ہوتی ہے جب وہ کوئی اچھا کام کریں ان کے لیے تعریفی کلمات استعمال کریں یا دعائیں دیں۔اگر وہ کچھ ایسا کریں جو آپکو اچھا نہ لگے تو اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کریں۔
6۔بچوں کے ساتھ مسکراکر  بات چیت کیجئے اور انکو مختلف زبانیں سننے اور سیکھنے کے مواقع  فراہم کریں
7۔بچوں کو منفی الفاظ جیسے نالائق،جاہل  Stupid,Idiots ,گدھے نہ بولے جائیں جس سے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوں بلکہ مثبت الفاظ جیسے بہت اچھا ،اعلی،سبحان اللہ ماشاءاللہ،Excellent,Great،very good وغیرہ بولے جائیں جس سے بچے کی خوداعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔
8۔۔   5 سال کے بچے کو روزانہ 10 سے 13 گھنٹے سونا چاہیے۔ یہ نیند دوپہر میں سونے اور رات کی نیند کو ملاکر ہے۔اگر آپ کا بچہ اتنے گھنٹے نہیں سوتا تو اس کو  سکول میں نیند آئے گی اور وہ صحیح نہیں پڑھ پائے گا۔اور اس میں Mood Disorder بھی پیدا ہوگا اس لیے کوشش کریں کہ سکرین ٹائم محدود بھی ہو اور کنٹرول بھی۔

Comments