بچوں کی تربیت اور والدین کا کردار

تحریر :   احمدیار 
بچوں کی تربیت اور والدین کا کردار

۔اولاد اللہ کی طرف سے ایک قیمتی تخفہ ہے۔اس تخفے کی قدر وہی جانتے ہیں جن کی کوئی اولاد نہ ہو۔والدین کہ ذمہ داریوں میں سب سے اہم زمداری بچوں کی تربیت ہے
۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’ کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے ‘‘ (سنن ترمذی )
رسول اکرم نے فرمایا! تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہو گی، حاکم ذمہ دار ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں یعنی بیوی بچوں کے بارے میں سوال ہو گا۔ (متفق
 میری خوش قسمتی ہیں کہ افاق کے ساتھ 12 سالہ تعلیمی سفر میں پاکستان کے مختلف علاقں میں پرسپلز ، اساتزہ کے  سینکڑوں ٹریننگ سیشنوں، ہزاروں اساتزہ کے ساتھ مباحثوں اور کلاس رومز جائزوں کے بعد میں زاتی طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکثر تعلیمی دارے ہمآرے بچے بناو کی بجائے بگاڑ کی طرف لے جارہے ہیں۔والدین بچے سکول بیچ کر یہ توقع کرتے ہیں کہ سکول والے ہی  بچے کی تربیت کے زمہ دار ہیں لیکن شاید والدیں کو ادراک نہی کہ جس دور میں وہ رہ رہے ہیں وہاں سکول کے کئ اپنے مسئل بن گئے ہیں جس کم عمر اور نا تجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ اساتزہ ور منتظم, زیادہ نمبروں کی دوڑ  ،سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اور سکولوں کا تجارتی رویہ۔یہ وہ تمام مسئل ہیں جو بچوں کی اچھی تربیت کے سامنے بڑی رکاوٹیں بن گئ ہیں۔اسلیے والدیں بچوں کی تربیت کی ساری زمہ داری سکول والوں پر نہی ڈال سکتے بلکہ اس سلسلے میں کلیدی کردار انہی کا ہے۔اس لیے گھر کی تربیت کی انتہائی اہمیت ہے۔ بقول مولانا مودودی ؒ : ’’یہ تعلیم گاہیں نہیں ، قتل گاہیں ہیں‘‘۔ اس تعلیم نے آکر ہماری نسلوں کو مکمل کافر نہیں بنایا تو مسلمان بھی کم ہی چھوڑا ہے۔
والدین بچے کے پہلے استاد ہیں ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہیں والدیں بچوں کے کل وقتی مربی ہے جبکہ سکو ل مختصر وقت کی تربت فراہم کرے ہیں۔OSPI ریسرچ کے مطابق بچوں کی تربیت میں والدیں کا کردار 82 فی صد ، سکول کا 15 فی صد جبکہ معاشرے کا 3 فی صد ہے۔
دنیا کے 40 ادارے نے کامیاب لوگوں پر ایک تحقیق کی اور ان کی 15 عادتیں جمع کی۔ان کامییاب لوگوں کی 15 عادتوں سر فہرست عادت یہ تھی کہ یہ اپنے بچوں کو سب سے اہم اور قیمتی چیز(product) سمجھتے تھے
 خاندان  معاشرے کہ  بنیادی اکائ ہے۔کسی بھی معاشرے کو مہزب اور طاقتور بنانا ہو تو ہمیں گھر اور خاندان  کو مہزب بنانا پڑے گا۔بچےکی تربیت اور جسمانی اور زہنی نشونما  کے لیے گھر سب سے پہلے درسگاہ ہے۔گھر کا ماحول جتنا دوستانہ صحت مندانہ اور روحانی ہوگا اتنا ہی بچے کی شخصیت پر مثبت طریقے پر اثر انداز ہوگا۔  
بچے کے تربیت کے مراکز کئ ہوسکتے ہیں جیسے سکول ، مدرسہ، گراونڈ ، حجرہ  ۔لیکن تمام میں  سب سے اہم گھر ہے۔گھر صرف کھانا کھانے ،ٹی وی دیکھنے اور کھیلنے کی جگہ نہی بلکہ تربیت کا مرکز بھی ہے۔
 (Its not only a living، but a learning place)
گھر کے ماحول کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے
 کہ ابتدائ برسوں میں بچے کی شخصیت کافی حد بن جاتی ہے۔زینی  بناوٹ تقریبا مکمل ہوجاتی ہے۔اور یہ وہ دور ہے جس میں بچہ سکول کی بجائے والدیں کے پاس ہوتاہے
جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے بچے کی بہت سارے نفسییاتی بیماریوں کی وجہ والدیں کا غلط طریقہ تربیت ہے۔جس طرح ماں باپ ہمارے تربیت کرچکے ہوتے ہیں بالکل اسی طریقہ میں ہم اپنے بچوں کی تربیت جاری رکھتےہیں ۔اگر ہماری تربیت اچھی ہوئ ہیں تو اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت بھی اچھی طرح کرسکیں گے۔والدین نے اگر اس حوالے سے اپنی زمہ اریاں پوری نہ کی تو انکے بچے کئ حوالوں سے کمزور رہ جاتے ہیں ریسرچ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بچے کی   پڑھنے کی کمزوری کا  براہ راست تعلق بچوں  کی غلط تربیت کی وجہ سے ہیں۔
ہاروڈ ریسرچ کے مطابق جب بچوں اور والدین کا تعلق اپس میں ٹھیک نہی ہوتا تو نتیجتا بچے کی تخلیقی صلاحیتیں  70 فی صد تک کم ہوجاتی ہیں ۔
والدین اپنے بچوں کی زمہ داری کسی اور پہ نہی ڈال سکتے یہ انکی بنیادی زمہ داری  ہے۔لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ بچوں کی تربیت کا پھل فوری طور پر نہی ملتا یہ ایک طویل المدتی اور کھٹن اور توجہ والا کام ہے۔اس لیے اکثر والدین اس حوالے سے زیادہ  موٹیویٹ نہی ہوتے ۔انسانی نفسیات ہہ ہے کہ وہ اپنے کام کا فوری طور پر صلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس حوالے سے چونک محنت کا پھل انکو 25 یا 30 سال کے بعد ملے گا۔اس لیے نفسیاتی طور پر اکثر اس محنت کے لیے تیار نہی ہوتے۔
ضروری نہی کہ والدین بچوں کی تربیت کے ماہر ہو بس اس حوالے سے وہ فکرمند ہو اپنی تربیت کریں اور مسلسل سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔بچے جب والدیں کوسیکھتے ہوئے دیکھیں گے تو بچوں پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔والدیں اگر بچوں کی تربیت کا گر جان لیںگے تو وہ گھر میں کسی بھی سرگرمی کھیل کھانا،دعوتوں گپ شپوں سیروں اور دوسری چھوٹی سرگرمیوں کو سیکھنے کے مواقعوں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔جن کے بچوں کی زہنی اور جسمانی ارتقاء پر مثبت اثرات مرتبب ہوسکیںگے۔
ماہر نفسیات فلیپا پیری
 کے مطابق ’آپ کا بچہ ایک مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نہ ہی یہ ایک پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں مکمل 
  کر سکیں۔‘’آپ کا بچہ ایک انسان ہے جو اپنی انفرادیت رکھتا ہے

Comments