طلباء کے ساتھ مثبت اور خوشگوار تعلقات استوار کرنا ایک صحت مند تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ کچھ حکمت عملیاں ہیں جو اساتذہ اپنے طلباء کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں:
اپنے طلباء کو سجھنے کی کوشش کریں :
اساتذہ کو طلباء کی دلچسپیوں، پس منظر اور خاندانوں کے بارے میں جاننا چاہیے۔ اس سے ان کے ساتھ ذاتی سطح پر جڑنے اور ان کے نقطہ نظر اور ضروریات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
ہر وقت دستیاب رہنا:
طلباء کو یہ محسوس کروایا جائے کہ وہ سوالات یا خدشات لے کر آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔ ان سے بات کرنے کے لیے آسانی سے دستیاب رہیں ، اور انھیں محسوس کروائیں کہ آپ ان کے مسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اور اساتذہ سے ملنے میں طلباء کوئ خوف اورجھجھک نہی ہونا چاہیئے۔زیدہ میل جول اور مکالمہ ایک بہتر تعلق کی نشانی ہے۔
مثبت الفاظ کا استعمال اور طلباء کو سراہنا:
طلباء کو ان کی خوبیوں ، کامیابیوں اور کوششوں کے لیے ان کی تعریف کریں سراہے اور دعائیں دیں ۔ اس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور نئے چیزیں کرنے اور سیکھنے کی تحریک پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔الحمد للہ،ماشاءاللہ، بہت خوب ،اعلی جیسے الفاظ ان کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں اور بے وقوف،نالائق، احمق گدھے جیسے الفاظ ادا کرنے سے ان میں احساس کمتری پیدا ہوتی ہے۔
کلاس روم میں اچھا ماحول پیدا کریں:
طلباء کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں۔ ایک محفوظ اور معاون ماحول بنائیں جہاں تمام طلبا اپنے اپکو قابل قدر اور اہم محسوس کریں۔
ہمدردی اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں:
جب طلباء غلطیاں کرتے ہیں یا کسی کام کو کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہیں تو۔ان کو حوصلہ دیں ، ان کے تجربات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں ان کی مدد کریں اورمزید کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔اوران کو بتائیں کہ ناکامی اصل میں کامیابی کی سیڑھی ہے۔
شرمندگی سے بچانا
۔بچوں کو مشکل سوالات پوچھ کر،زیادہ ہوم ورک دے کر اور فییسوں پر باربار تنگ کر کے شرمندگی کے صورت حال میں نہی ڈالنا چائیے۔کمزور بچے اکثر مشکل سوالات کا جواب نہی دے پاتے،حد سے زیادہ ہوم ورک اکثر بچے کر نہی پاتے اور غریب بچے اکثر فیس وقت پر ادا کر نہی پاتے۔فیسوں کا معاملہ والدین اور سکول کے درمیان ہونا چاہہے۔بچوں کو اس "کاروبار" کا حصہ نہی بنانا چاہیے۔یہ تمام شرمندگی کے صورت حال بچے کی نفسیاتی نشونما میں بڑی رکاوٹ ہے
طلباء کی ارا اور مشوروں کو اہمیت دیں:
طلباء کو کلاس روم میں اپنے خیالات، آراء اور تجربات پیش کرنے کا موقع دیں۔ اس سے ان میں اعتماد میں اضافہ ہوگا اور ان کے لیے سیکھنے کا عمل پرکشش بھی بن جائے گا۔
والدین ساتھ تعلقات استوار کرنا
طلباء کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے میں ان کے والدین کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنا بھی شامل ہے۔ خاندانوں کے ساتھ باقاعدہ بات چیت ہو ان سے مشورے لیے جائیں اور انہیں سیکھنے کے عمل میں شامل کیا جائے اس سے طالب علم اور استاد دونوں کا فائدہ ہوگا
ان حکمت عملیوں کو نافذ کرنے سے، اساتذہ کلاس روم کا ایک مثبت اور معاون ماحول پیدا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں جہاں طلباء میں ای اعتماد ،لیڈرشپ بھی پیدا ہوگی اور ملک وقوم کے کامیاب شہری بن سکتے ہیں
Comments
Post a Comment