تحریر :احمدیار
شباب عمر کا وہ حصہ ہے جو 13 یا 14 سال سے شروع ہوتا ہے، لیکن بلوغت کا آغاز لڑکیوں میں 8سے 13 سال اور9سے14 سال کے درمیان بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ ماحول ، جغرافیہ اور ثقافتیں ہیں۔
۔اسے انگریزی میں adolescence کہتے ہیں اس زمانے میں جوان توانائی اور جزبے سے بھرپور ہوتے ہیں فعالیت انتہا کی ہوتی ہے ۔کچھ کرنے کا جزبہ اپنے عروج پر ہوتاہے۔
عمر کا ہہ حصہ کئی حوالوں سے اہم ہے
اسلام میں عمر کے اس حصے کی بڑی اہمیت ہے۔نبی کریم نے ارشادفرمایاہے:
’’ 5 چیزوں کو 5 چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ اوران 5 چیزوں کے ضمن میں فرمایا:
’’بوڑھاپے سے پہلے جوانی کو غنیمت جانو!۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا
’’ قیامت کے دن کسی بندے کے زمین کے اوپرسے اس وقت تک قدم اٹھ نہ سکیں گے جب تک کہ وہ 4سوالوں کے جواب نہ دیدے، ان 4 سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ تم نے اپنی جوانی کو کس طرح سے گزارا۔‘‘
ایک اور جگہ حدیث پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
’’جو جوانی میں عبادت کرے وہ عرش الہٰی کے سائے میں ہوگا کہ اسے قیامت کے میدان کی گرمی نہ پہنچے گی‘‘(صحیح بخاری)۔
بلوغت کے بعد جسمانی تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہوتی ہیں اور ان ہی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑی نفسیاتی تبدییاں بھی واقع ہونے لگتی ہیں۔ جیسے
وہ اپنے اپکو بڑا تصور کرنے لگتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خفا ہوتے ہیں ضدی ہونے لگتے ہیں۔اور بعض اوقات بغاوت پر اتر اتے ہیں۔
رومانویت اور مخالف جنس میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے جو ہمارے جیسے معاشرے میں اکثر بڑے مسائل کا سبب بن جاتی ہے اج کل کے دور میں سکرین ٹائم میں بے حد اضافہ ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بینائی کمزور ہوتی ہے،سستی غالب ہونے لگتی ہے وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور نفسیاتی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔بعض اوقت رات دیر سے گھر جانے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں
دوستوں میں زیادہ خوش ہوتے ہیں اور وقت گزارتےہیں ۔Family life Recearch کی ریسرچ کے مطابق 50 فی صد نوجوانوں نے اپنے دوستوں کو سرفہرست تیں سب سے ایم امور میں رکھا جو ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔
(According to Family Lives' research, over half of all teens surveyed listed their friends in the top three things most important to them)
ان کے زہنوں میں کیا چل رہاہے یہ جاننا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔
جن خاندانوں میں بچوں پر زہنی دباو زیادہ ہوتا اور والدین اور بچوں میں تعلق کمزور ہوتا ہے وہاں کئ نفسییاتی مسئل سنگین حالت اختیار کرتے ہیں جیسے نشے کا عادی ہونا یا خودکشیاں کرنا وغیرہ
اس عمر میں شناخت کا مسئلہ بھی پیدا ہوجاتا ہے ۔جس محفل میں وہ بیٹھتے ہیں توجہ حاصل کرنے کے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔ میں کیسے لگ رہاہوں یا کیسی لگ رہی ہوں یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جزباتی ہونا ایک دوسرے کو تنگ کرنا اور لڑائی جھگڑوں کی شکایات میں اضافہ ہونے لگتا ہے.
حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ بہت سی نئے چیزیں سیکھنے لگتے ہیں اس میں اچھی اور بری دونوں قسم کی چیزیں سیکھی جاتی ہیں۔
والدین کے غیر زمدارانہ رویے۔
چونکہ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کی اگہی اور تربیت کے پروگرامات اور ٹریننگ کا فقدان ہے اس لیے اس عمر کے بچوں کی تربیت میں والدین سے کئی قسم کی غلطیاں ہوجاتی ہیں جن میں سے چند کی نوعیت مندرجہ زیل ہیں۔
والدین اپنے بچوں کو ابھی تک بچہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ان پہ اپنی مرضی اس طرح مسلط کرتے ہیں جس طرح وہ بچپن میں کرتے تھے۔دوسری طرف بچے اپنے اپکو بڑا تصور کررہے ہوتے ہیں۔یہ امر اچھے تعلق میں بڑی رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔
اس عمر میں والدین کی بچوں پر سختیاں مزید بڑھ جاتی ہے ڈانٹ ڈپٹ میں مزید سنگینی آجاتی ہے۔
بعض والدین ایک دوسرے کو بچے کی شکایتیں لگاتے ہیں اور اکثر سب کے سامنے ایسی چیزوں کا اظہار کرتے ہیں جن کا تعلق بچوں کے رازوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اس وجہ سے نہ صرف وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ والدین کے ساتھ تعلقات بھی کمزور ہوجاتے ہیں
اس عمر میں نوجوان بڑی کلاسوں (جیسے نویں سے بارھویں)میں پہنچ جاتے ہیں ،ان کلاسوں میں ان پر زیادہ نمبر لینے کا دباو مزید بڑھ جاتا ہے وہ اکثر یہ دباو برداشت نہیں کرپاتے اور وہ گھر سے دوری ، نشے کی طرف رجہاں اور بعض اوقت تو گھر سے بھاگتے ہیں اور خودکشیوں تک کی نوبت آجاتی ہے۔
اس عمر میں والدین مندرجہ زیل باتوں کا خیال رکھیں
بچوں کے ساتھ مکالمہ شروع کریں
ان کے خیالات اور رائے کا احترام کریں۔ ...
ان کے مختلف امور میں دلچسپی دکھائیں۔ ...
اکھٹے وقت گزاریں. اور ایک دوسرے سے بات اور مکالمہ کرنے اور سننے کے لیے وقت نکالیں۔ ...
ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
ان سے منشیات، تمباکو اور الکحل وغیرہ کے نقصانات کے بارے میں بات چیت کریں
ان تبدیلیوں کو سمجھنے میں ان کی مدد کریں جن سے ان کے جسم گزر رہے ہیں۔
ان کے خدشات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار رہیں۔
انکی پردہ داری رکھیں۔ان سے غلطیاں ہوسکتی ہیں جیسے ہم سب سے ہوئیں ہیں۔ماں باپ بچوں کی رازوں سے متعلق ایک دوسرے کو شکایتیں نہ لگائیں۔لیکن اہم اور بڑے مسائل کو ایکدوسرے کو بتائیں اور اور اس کا حل نکالیں
میڈیا،سکریں ٹائم سونے جاگنے گھر سے دور رہنے اور کھانے اور پینے وعیرہ کے نظام الاوقات اور اصول بچوں کی مشاورت کے ساتھ بنائیں۔اور پھر ان اصولوں پر کاربند رہنے میں مستقل مزاجی دکھائیں
انہیں رضاکارانہ طور پر کام کرنے اور فلاحی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔
زبردستی کیے بغیر میڈیا کے استعمال کے بارے میں اصول طے کریں۔
انہیں کافی نیند ،جسمانی سرگرمیوں ، کھیلوں اور کلبز میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔
انہیں صحت مند غذائیں کھانے اور فعال رہنے کی ترغیب دیں۔
ان کی تعریف کریں دعائیں دیں اور ان کی کوششوں اور کامیابیوں کا جشن منائیں
۔ اسے اپ خوش قسمتی ہی کہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہمارے ملک کی آبادی کا نصف سے بھی زیادہ حصہ نو جوانوں پر مشتمل ہے۔ نیشنل ہیومین ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا64 فیصد اس وقت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال عمر کے افراد پر مشتمل ہے ۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں اس وقت ملک میں نو جوانوں کی تعداد کسی بھی دور کے مقابلے میں سب سے زیادہ
تویی بہترین وقت ہے کہ ہم اس نئی نسل کی ایسی تعلیم و تربیت کریں کہ و واگلی دہائیوں میں پاکستان کو ترقی کی اس منزل کی طرف پہنچا سکیں جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا
Comments
Post a Comment