یادداشت سیکھنے کا عمل اور اساتذہ ۔
تحریر :آحمدیار افاق
یادداشت(Memory )اللہ کی ایک نعمت ہے
یہ زہہن کی وہ صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر یہ معلومات کو حاصل کرتا ہے یاد کرتا ہے محفوظ کرتا ہے اور باز یافت(Retrieve )کرتا ہے۔یہ سب ایک پیچیدہ عمل کے زریعے ہوتا ہے۔اس میں تین بڑے عمل(process) انکوڈنگ (encoding)، اسٹوریج(storage) اور بازیافت(retrieval ) شامل ہیں۔
یہ عمل تین درجوں(levels) پر کام کرتاہے
1۔ حسی یاد داشت (Sensory Memory)
2۔قلیل المدتی یاد داشت
(short Term Memory )
3۔ لمبے دورانیے کی یادداشت
(Long Term memory)
1۔حسی یادداشت (Sensory Memory )
یہ یادداشت یا حافضے کا پہلا مرحلہ ہے معلومات ہمارے حسی اعضاء جیسے،کان،انکھ،زبان،ناک وغیرہ سے یہاں آتی ہیں۔اس کے محفوظ کرنے کی صلاحیت یا دورانیہ 1 سیکنڈ سے 5 سیکنڈ تک ہو سکتا ہے۔وہ معلومات جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہو یعنی تصوریں (visual)وغیرہ ان کا دورانیہ ایک سیکنڈ تک جبکہ سننے (Auditory) اور حرکت والی (Tactile)معلومات کا دورا نیہ 3 یا 5 سیکنڈ تک ہو سکتا ہے۔senosry معاملات کا 99 فی صد حصہ یا معلومات ضائع ہو جاتی ہیں۔صرف وہ معلومات جو مختصر دورانیہ یا Short Term Memory میں چلی جاتی ہیں جن میں ہم دلچسپی لیتے ہیں یا توجہ دیتے ہیں ۔ یہ یادیں زیادہ تر ان معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں جن پر ہم فوری توجہ مرکوز کر رہے ہوتے ہیں۔یہ یادیں وقتی طور پر ہمیں چیزیں پہچاننے میں مدد دیتی ہیں۔
حسی یادداشت اور تدریس طریقے (Teaching Methods )
1۔اساتذہ کلاس روم میں اس بات کا خیال رکھیں کہ ایک وقت میں بہت زیادہ معلومات بچوں کو نہ دیں ورنہ وہ ضائع ہوجائیں گی۔
۔اساتذہ یہ یقینی بنائیں کہ بچے توجہ دے رہے ہیں یا نہی.سب سے پہلے بچوں کی توجہ حاصل کریں۔بچوں کی توجہ نہیی ہوتی اگر وہ بیمار ہوں،پریشان ہوں،اساتذہ کا طریقہ کار ٹھیک نہ ہو ،یاگھریلو مسائل ہوں ۔
2۔اساتذہ مختلف دلچسپ طریقہ تدریس کا استعمال کریں۔پاکستان کے قومی نصاب میں ہر مضمون کے لیے تدریسی طریقے دئے گئے ہیں ان کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
۔اساتذہ مختلف تدریسی معاونت جیسے ,سمعی و بصری معاونتیں استعمال کریں۔
2.مختصر دورانیہ کی یادداشت(Short Term Memory )
معلومات حسی حافظے سے یہاں اتی ہیں۔
معلومات یہاں 15 سے 30 سیکنڈ کے لیے محفوظ رہ سکتی ہیں۔لیکن ایک وقت میں 7 تک معلومات یہاں محفوظ ہوسکتی ہیں۔
۔ فرائیڈین نفسیات میں اسے شعوری ذہن (conscious mind) کہا جاتا ہے.
قلیل المدتی یادداشت اور تدریسی طریقے
1۔پڑھاتے ہوئے ،اساتذہ اس بات کا خیال رکھیں کہ معلومات کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کریں مثال کے طور پر اگر ایک فون نمبر019149875 کس کو ہمیں یاد کرانا ہو تو اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیں جیسے 01914،98،75۔یہ مزید دلچسپ ہوجائے گا اگر اس کے ساتھ میں کچھ اہم معلومات.جوڑ دیں مثال کے طور پر 1914 میں پہلی عالمی جنگ لڑی گئی تھی،98 میں پاکستان کا پہلی ایٹمی دھماکہ ہوا تھا 75 اپکا اپنا تاریخ پیدائش ہوسکتا ہے۔
2۔۔امریکا کی بیلور یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آپ کسی چیز یا نئی معلومات کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اسے کسی شخص کے سامنے دہرا دیں تو وہ لمبے عرصے کے لیے اپکے حافظے کا حصہ بن جاتی ہے۔
3۔اساتذہ سبق کے اخر میں چیدہ چیدہ نکات بیان کریں۔
4۔اہم معلومات کو بار بار دہرائیں۔5۔بچوں سے گردان کرائیں۔یا بچے اہم معلومات سبق کے اخر میں جوڑوں کی شکل میں ایک دوسرے کو سنائیں ۔
6۔بچوں سے اہم نکات دو تین جملوں میں لکھوائیں۔
طویل المیعاد یادداشت (Long Term Memory )
معلومات قلیل المدتی یادداشت یا Short Term Memory سے طویل المیعاد یادداشت میں اجاتی ہے۔ایک دفعہ معلومات یہاں اجاتی ہیں تو ساری زندگی کے لیے یہاں رہتی ہیں۔یعنی گھنٹوں سے سالوں تک۔البتہ یہاں چیلنج بازیافت(Retrieval)کا ہوتا ہے یعنی جن معلومات کی جس وقت ضرورت ہو اس وقت یاد آجائیں خوش قسمتی سے قلیل المدتی یادداشت کی زخیرہ کرنے کی استطاعت (Storage capacity)لا محدود ہے.بیرک (Berrick )نے یہ بات معلوم کی کہ 14 سال کےبعد اس یادداشت کا ٹھیک (accurate) سے معلومات کا زخیرہ کرنے کی صلاحیت 90 فی صد اور 60 سال کے بعد 60 فی صد ہے۔
طویل المدتی یادداشت اور تدریس طریقے (Teaching Methods)
1۔اساتزہ معلومات کو طویل المدتی یادداشت میں لیجانے کے لیے اس کو انکوڈ(Encode) یا ٹیگ( Tag)کرنا پڑے گا.ٹیکنگ کا مطلب ہے کہ کسی موضوع کو یاد کرانے کے لیے ان معلومات کو کسی دلچسپ سگرمی (Activity ) کے ساتھ جوڑنا پڑے گا۔ لیکچر طریقہ کار سے دی گئ معلومات طالب علم جلد بھول جاتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی سرگرمی کی گئ ہو تو وہ یاد رہتی ہے۔اس کی مثال کسی دفتر میں رکھی گئ فائلوں کی سی ہے کہ اگر ان فائلوں میں زیادہ کاغذ (Documents )پڑے ہو اور ہمیں ان میں سے کسی کاغذ کو ڈھونڈنا ہو اور اس پر کوئ ٹیکنگ نہ ہو تو ہمارے لیے کاغذ ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا ہے۔لیکن اگر فائلوں پر ٹیگ ہو تو کا غذ اسانی کے ساتھ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔لیکچر طریقہ کار سے دی گئ معلومات کی مثال اس فائل کی ہے جس کے اوپر کوئ ٹیگ نہی اور وہ معلومات جس کے لیے دلچسپ سرگرمی کی گئ اس کی مثال ٹیگ کیے ہوئے فائل کی ہے۔
2۔ضروری ہے کہ اساتذہ مختلف طریقہ ہائے تدریس اپنائیں اور مختلف صوتی اور بصری معلومات کا استعمال کریں۔
3۔ اساتذہ معلومات کو پہلے سے زخیرہ شدہ معلومات کے ساتھ جوڑیں تو معلومات قلیل المدتی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔
4۔اس کے علاوہ ریسربچ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو موضوعات ،معلومات بچوں کے جذبات کو چھو جائے وہ بچوں کے لمبے دورانیے کی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔اس لیے اساتذہ کوشش کریں کہ موضوع کو بچوں کے جذبات کے ساتھ جوڑیں۔
5۔ اساتذہ کسی موضوع کو عملی زندگی کے ساتھ جوڑیں اور تعلق پیدا کریں اور عملی زندگی سے مثالیں دیں جب بچوں کو پتہ چلے گا کہ کوئی خاص موضوع وہ کیوں پڑھ رہے ہیں اور اس کا انکی عملی زندگی سے کیا تعلق ہے تو اس طرح موضوعات اور معلومات میں انکی دلچسپی بڑھ جاتی ہیں اور معلومات لمبے عرصے کے لیے ان کے حافظے میں محفوظ ہوجاتی ہے اور آسانی کے ساتھ جب ضرورت ہو دوبارہ یاد (بازیافت یا Retrive) بھی اجاتی ہے۔
مجھے امید ہے کہ اگر اساتذہ اس بات کو سمجھیں کہ ذہن کیسے کام کرتا ہے اور انسان کیسے سیکھتا ہے تو ہم بچوں میں اللہ تعالٰی کی طرف سے دی گئ قابلیت (potential )کو باہر نکال سکتے ہیں پالش کرسکتے, نکھار سکتے ہیں اور عروج تک پہنچا سکتے ہیں اس کی وجہ سے نہ صرف ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشرہ بھی اگے بڑھے گا
MashaAllah, very nice sir
ReplyDelete