بچوں کی تربیت ،والدین کی اگاہی اور اس کی اہمیت


تحریر: احمدیار

بچوں کی تربیت والدین کی اولین زمہ داری ہے اور بچوں کی تربیت کے لیے والدین کی تربیت اہم ترین کام ہے۔

اللہ تعالٰی قرآن مجید میں والدین کو ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے "

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا: اے ایمان والو!اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ"

سیدناابن عمر رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میں سے ہرشخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا" ۔

تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اگر والدین تربیت یافتہ ہونگے تو بچوں کی جسمانی ،ذہنی،نفسیاتی اور روحانی نشونما پر مثبت اثرات ہونگے۔لیکن ہمارے ہاں  ناخواندگی ،معاشی مسائل ، معاشرتی مسائل اور کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے والدین کے رویوں میں مسائل بھی ہیں اور تربیت اولاد کے لیے ان کی مطلوبہ اگاہی بھی نہیں ہے۔(پاکستان میں %60 ماوں   کی عمریں   16 سے 21 سال تک ہیں۔ تحقیق)

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک والدین کی تربیت کو اولین ترجیحات میں شمار کرتے ہیں.حکومتی اور غیر سرکاری ادارے اور افراد والدین کی تربیت کے حوالے سےتحقیق  کرتے ہیں تقریبات کرتے ہیں آن لائن رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور اس حوالے سے مطلوبہ لٹریچر چھاپتے ہیں۔ہمارا ملک والدین کی رہنمائی کے حوالے سے بہت پیچھے ہے ابھی تک یہ موضوع حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکا۔ہمارے ملک میں شمالی علاقہ جات کے علاوہ ملک کے دوسرے علاقوں میں اس حوالے سے کوئی منظم کوشش سامنے نہیں آئی ہے۔

 ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیہاتوں ،شہروں ،مدرسوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچوں کی تربیت سے متعلق آگاہی کے پروگراموں کو شروع کرنا ہوگا۔ شاید تعلیمی ادارے اس میں اپنا کردار سب سے زیادہ بہتر طریقے سے ادا کرسکتے ہیں. تعلیمی ادارے اپنے اساتذہ ،سکول سے منسلک والدین اور کالج کی بچیوں کے لیے تربیتی پروگرامات منعقد کرسکتے ہیں۔

ایک فوجی یا پولیس والے کئی مہینے مشقت سے گزارنے کے بعد اچھے سپاھی بنتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کو اچھا ڈاکٹر بننے کے لیے سالوں کی تربیت سے گزارا جاتا ہے۔ کام چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ، پیشہ چاہے کم اہمیت کا حامل ہو یا زیادہ لیکن متعلقہ لوگوں کو مختصر دورا نیے یا لمبے عرصے کی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

 اب ہمارے ملک میں والدین جنہوں  نے ایک  نسل کی تربیت کرنی ہے  کے لیے تربیتی پروگرامات نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ نہ حکومت نہ ہی غیر سرکاری تنظیمیں، نہ ہی تعلیمی ادارے اور نہ ہی مدرسے اس اہم کام کو اہمیت اور توجہ دے رہے ہیں۔ اور نہ ہی ترجیحات میں شامل کر رہے ہیں۔ نہ ہی والدین کی اکثریت  خود اس اہم ذمہ داری کےبارےمیں جاننا یا سیکھنا چاہتی ہے۔

جدید دور اپنے ساتھ نئے فتنے ،نئے چیلنجز اور نئے مسائل لایاہے. جیسے سکرین کا بڑھتا ہوا رجہان اور اس کی وجہ سے پیدا شدہ جسمانی ، نفسیاتی ، جذباتی اور معاشرتی مسائل ہیں.

 راہ روی، تشدد ، ایک دوسرے سے دوری،کتب بینی سے دوری اور بری صحبتیں۔جدید دور کے یہ مسائل اور ان سے نمٹنا والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ والدین کو ان جدید چیلنجز سے اگاہ بھی کیا جائے اور ان سے احسن طریقے سے نمٹنے کے طریقے بھی بتا دئیے جائیں۔

والدین کی تربیت کے حوالے سے حکومت ، غیر سرکاری تنظیموں ، تعلیمی اداروں ، علماء اور والدین کو خود اس اہم کام کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا پڑے گا۔ اور سب کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے چلنا بھی پڑے گا۔اس کاوش کو مربوط بنانے کی بنیادی اور اولین زمہ داری حکومت کی ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ایسا کرنے سے ہم آئندہ نسلوں کی تیاری کرسکتے ہیں اور ایک  نئی مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ۔

بقول اقبال

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ

تحریر

احمدیار

ریجنل ہیڈ افاق پشاور

Comments