والدین اساتذہ اجلاس (Parent Teacher Meetings):

 

 والدین اساتذہ اجلاس (Parent Teacher Meetings):

تحریر :احمدیار

ریجنل ہیڈ افاق پشاور

اہمیت:موجودہ دور میں بچوں کی تربیت ایک چیلنج ہے۔سوشل میڈیا،ٹیکنالوجی کی ترقی ،والدین کی مصروفیت، جدید الحاد اور فتنوں ،اور انسانی رویوں میں تیزی سے ہونے والے تبدیلیوں نے اس چیلنج کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔صرف والدین یا صرف اساتذہ  اس ذمہ داری کو اکیلے نباہ  نہی سکتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ والدین اور سکول کا بچوں کی تربیت کے حوالے سے مسلسل رابطہ ہو اور وہ باقاعدہ خاص وقفوں کے بعد  اپس میں  ایک منصوبہ بندی کے تحت ملیں اور بچوں کے مختلف مسائل زیر بحث لائیں۔

فوائد :والدین اساتذہ اجلاسوں Parent Teacher Meetigs)  کے فوائد مندرجہ زیل ہیں جو ریسرچ سے ثابت ہیں۔

1۔ان اجلاسوں کی وجہ سے ،بچوں کی حاضری بہتر ہوتی ہیں،

2۔تعلیمی کارکردگی میں بہتری آتی ہے 

3۔معاشری نشو نما / سوشل سکلز بہتر ہوتے ہیں،

4۔بچوں کے صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں 

۔4۔سکول اور والدین کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں 

5۔والدین اور سکول دونوں کو بچوں کے حوالے سے اہم معلومات سے اگاہی ہوتی  ہے۔

والدین اساتذہ اجلاسوں (پی ٹی ایم) کا موثر  انعقاد 

( How to make PTM More Effective)

 سکول ان اجلاسوں کو موثر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملیاں ترتیب دیں۔

میٹنگ سے پہلے کی حکمت عملیاں

(Strategies before PTM)

اچھا ماحول بنانا 

1۔والدین کا سکو ل دروازے پر پرجوش استقبال

2۔سکول کو صاف اور منظم رکھنا 

3۔اجلاس کے حوالے سے استقبالیہ اور آگاہی کے مواد کو مناسب جگہوں پر آویزاں کرنا اور ترتیب دینا۔

4۔والدین کی انتظار گاہ اور میٹنگ والی جگہوں کو آرام دہ بنانا اور اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے مواد کو دستیاب کرنا۔

5۔  موسم کے مطابق مشروبات سے مناسب تواضع کرنا

6۔والدین کو متعلقہ جگہوں تک پہنچانے کے لیے رہنما  (Guide)مقرر کرنا.

اجلاس کی تیاری

(۔Preparation For PTM)

1۔اجلاس کی تاریخ وقت اور ایجنڈے کے بارے میں والدین کو قابل فہم زبان میں( خط ،ایمیل،وٹسپ میسج وغیرہ کے ذریعے) آگاہ کرنا۔

2۔والدین سے آنکے سوالوں کے بارے میں پیشگی آگاہی حاصل کرنا۔

4۔والدین کو میٹنگ کے لیے ضروری ہدایات اور آگاہی مہیا کرنا۔

5۔ایک یا دو دن پہلے یاددہانی کے لیے فوں کرنا اور متوقع حاضری اور تعداد  کے بارے میں معلومات حاصل کرنا۔

6۔اگر کچھ والدین پڑھے لکھے نہی ،تو ان کے لیے ترجمانی کا انتظام کرنا ۔

7۔کچھ علاقوں میں اگر مخلوط اجلاسوں پر اعتراض ہو تو خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ میٹنگز کا انعقاد کرنا۔

8۔بچوں سے متعلقہ امتحانی نتائج،تدریسی ،ڈسپلن،رویوں اور متعلقہ کمزوریوں اور خوبیوں کے بارے میں معلومات ایک چیک لسٹ پر جمع کر نا۔

)نوٹ۔کوشش کریں کہ ہر بچے کی الگ چیک لسٹ ہو)

9۔موثر پی ٹی ایم کے انعقاد پر اساتذہ کی تربیت  کرنا

10۔میٹنگ سے کچھ دن پہلے اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینااور زمداریاں سونپنا

پی ٹی ایم کے دوران والی حکمت عملیاں۔

(Strategies During PTM)

1۔والدین کا استقبال کرنا اور اپنا تعارف کرانا

2۔بچے کے حوالے سے مثبت باتوں سے شروعات کرنا اور کمزوریوں پر مناسب طریقے سے بحث کرنا

3۔اگر سکول ملاقات بچوں کی موجودگی میں کرتا ہے۔تو بچوں کے سامنے اس کی کمزوریوں پر بات نہ کرنا بلکہ بہتری کی حکمت عملیں پر بحث کرنا۔(بچوں کی غیر موجودگی زیادہ بہتر  ہوگی)

4۔والدین سے ایسی معلومات لینا جو اساتذہ یا سکول کی علم میں نہ ہو مثلا کھانے پینے ،سونے ،موبائل استعمال، نمازوں،تلاوت وغیرہ کے بارے میں معلومات ۔اور والدین کو ایسی معلومات دینا جو انکو پتہ نہ ہو ۔دونوں قسم کی معلومات کو چیک لسٹ پر لکھنا۔

5۔والدین کی بات کو تحمل سے سننا اور ارا کی قدر کرنا،مسکراتے ہوے بات کرنا اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنا

6۔بچوں کی مختلف کمزوریوں پر مشترکہ حکمت عملیاں بنانا۔

7۔والدین کو بچوں کی تربیت کے حوالے سے مختلف مواد اور وسائل جیسے کتابیں ،رسالے،مضامیں ویڈیوز،ویبسائیٹس وغیرہ کی نشاندہی کرانا۔

8۔پیش رفت کو واضح کرنے کے لیے بصری (گرافس، چارٹ) کا استعمال کرنا۔

9۔اگر سکول والدین سے کوئ اہم معلومات میں دلچسپی رکھتا ہے یا سروے کرا رہا ہے۔تو موقع پر سروے فارم کو پر کرنا یا معلومات اکٹھی کرنا۔

10۔والدین کے وقت اور حاضری کے لیے شکریہ ادا کرنا


والدین اساتذہ اجلاس (PTM)کے بعد والی حکمت عملیاں

(Strategies after PTM)

1۔میٹنگ میں نوٹ ہونے والی اہم نکات کو خلاصے کی شکل میں والدین کو بھیجنا اور اس کا ریکارڈ محفوظ کرنا۔۔

2۔پی ٹی ایم  کے دوران سامنے انے والے اہم نکات پر سکول میٹنگ میں بحث کرنا اور آئندہ لائحہ عمل طے کرنا۔

3۔والدین اور سکول کے دوران طے ہونے والی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا اور رابطے میں رہنا۔

مجھے امید ہے کہ اگر سکول والدین اساتذہ اجلاسوں کو موثر بنائے گا تو نتیجتا ہمارے بچوں کی بہتر تربیت بھی ہوگی ،سکول کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ بھی ہوگا اور پورے معاشرے پر اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہونگے۔



Comments