نصاب سازی اور اکیسویں صدی کے چیلنجز:
تحریر ۔احمدیار
صاب سازی ایک پیچیدہ اور مسلسل عمل ہے جس میں طلباء، اساتذہ، معاشرے اور بدلتی ہوئی دنیا کی ضروریات اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے ۔
اسکول کے سربراہان نصاب سازی کے عمل کی رہنمائی،جائزے اور اطلاق میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،
اگرچہ پاکستان میں نصاب سازی کا عمل سرکاری سطح پر ہوتا ہے اور ہمارے اکثر سکول علاقائی سطح پر نصاب سازی نہی کرتے لیکن دنیا میں تعلیمی ادارے سرکاری اور مرکزی نصاب کے ساتھ ساتھ علاقائی ضرورتوں،مسائل اور ماحول کے مطابق نصاب سازی کرتے ہیں۔تاکہ علاقائی مسائل و وسائل کی نشاندہی بھی ہو اور علاقائ انسانی اور مادی وسائل بھی نمو پا سکیں۔
اکیسویں صدی کے لیے نصاب سازی کے چند چیلنجز یہ ہیں
اہم صلاحیتوں ، اور ڈیجیٹل خواندگی کو نصاب کا حصہ کیسے بنایا جائے، اور ان کا مؤثر طریقے سے جائزہ (اسسمنٹ )کیسے لیا جائے۔
علاقائ ضرورتوں کے مطابق نصاب سازی کیسے کی جائے۔
نصاب کے لیے ایک اشتراک پر مبنی نقطہ نظر کو کیسے اپنایا جائے، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے کہ طلباء، اساتذہ، والدین، معاشرے کے مختلف طبقات ، اور ماہرین کی شرکت اور تاثرات شامل ہوں۔
طلباء اور معاشرے کی متنوع اور بدلتی ہوئی ضروریات کو کیسے نصب سازی کا حصہ بنایا جائے، اور اس کے مطابق نصاب پر مسلسل نظر ثانی کیسے کی جائے اور جدت کیسے لی جائے۔
نصاب میں لچک اور تنوع کو کیسے فروغ دیا جائے، اور نصاب کو نافذ کرنے اور ان کے مقامی سیاق و سباق کے مطابق ڈھالنے میں اساتذہ کی مدد کیسے کی جائے۔
نصاب کو کیسے نظریاتی اور ثقافتی ضرورتوں کے مطابق بنایا جائے ۔
21 ویں صدی کے مہارتوں (Skills) جیسے
تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، تعاون، کمیونیکیشن ،اور خوندگیں(literacies) کو کیسے دلچسپ طریقے سے نصاب کا حصہ بنایا جائے
Comments
Post a Comment