والدین اور ان کا طرز تربیت PARENTING STYLES


 

والدین اور ان کا طرز تربیت  PARENTING STYLES)

تحریر :احمدیار

والدین کے پرورش کے مختلف انداز اور طریقے ہیں ۔والدین کے پرورش کے یہ مختلف طریقے بچے کی نشوونما میں انتہائ اہم اور نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، یہ ان کی شخصیت، رویے اور تعلیمی کارکردگی کو تشکیل دیتے ہیں۔ والدین اور معلمین دونوں کے لیے ان مختلف اندازوں Styles)کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ بچوں کی بہتر نشوونما کو فروغ دیا جا سکے

چار بنیادی پرورش کے انداز ہیں (4 parenting styles )

1.امرانہ یا سخت گیر(Authoritarian )

2۔جمہوری (Authoritative or Democratic)

3۔نرم مزاج (Permissive )

4۔لاپرواہ (neglectful or Uninvolved )

1۔آمرانہ یا سخت گیر (Authoritarian )

خصوصیات. اس قسم کے والدین سخت مزاج ہوتے ہیں، اپنے بچوں سے اطاعت کی توقع رکھتے ہیں، اور اکثر سزا کا استعمال کرتے ہیں۔گھروں میں سخت ڈسپلن کا نفاز کرتے ہیں ،اپنے بچوں سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ایسے والدین کے بچوں کے ساتھ تعلق کمزور ہوتا ہیں۔ایسے والدین بچوں کو زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی خود نہی کرنے دیتے۔

بچوں پر اثرات

ایسے والدین کے بچے اکثر اطاعت گزار ہوتے ہیں لیکن ان میں خود مختاری، خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ان میں بے چینی ہو سکتی ہیں اور خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔یہ اپنی آراء کا اظہار کھل کے نہی کرسکتے۔یہ بچے احساس کمتری کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سکول کی ذمہ داری 

    کلاس روم میں اساتذہ دوستانہ ، شفقت اور معاونت والا ماحول بنائیں۔بچوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ بچوں میں بے چینی کم ہو۔

سکول کو چاہیے کہ ان والدین کی تربیتی ورکشاپ کرائیں۔

2.جمہوریی(Authoritative or Democratic )

اس قسم کے والدین بھی بچوں سے زیادہ توقعات وابستہ کرتے ہیں اور ضابطے اور ڈسپلن کے حق میں ہوتے ہیں لیکن پہلے والے والدین کے بہ نسبت انکا رویہ جمہوری ہوتا ہے ۔یہ اپنے تمام اقدامات اور فیصلوں کی وجہ بتاتے چیزوں میں بچوں سے مشورہ کرتے ہیں اور متفقہ لائحہ عمل کے مطابق آگے بڑھتے ہیں۔گھروں میں مکالمہ اور بات چیت کا ماحول ہوتا ہے۔

بچوں پر اثرات

یہ بچے اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اچھی سماجی مہارتوں کے حامل ہوتے ہیں ۔اس قسم کے والدین کے بچوں میں خود اعتمادی زیادہ ہوتی ہیں اور وہ خوش زندگی بسر کرتے ہیں۔یہ بچے پڑھائ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہ بچے دوسرے بچوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرتے ہیں ۔

سکول کی زمداری

سکول ایسے والدین کی مثبت رویوں کی مسسلسل حوصلہ افزائی کریں ۔ان کے ساتھے رابطے استوار رکھیں، بچوں کے حوالے سے مثبت خبریں بھیجیں ان کو سکول کی مختلف پروگراموں میں شریک کریں۔ان کی آراء کا احترام کریں اور جب یہ کوئی شکایت کریں تو پیشہ ورانہ طریقے اور مستعدی سے ان کی شکایت کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

نرمی دکھانے والے(Permissive Parenting)

اس قسم کے والدین بچوں سےکم توقعات وابستہ کرتے ہیں،زیادہ تر بچوں کی مانتے ہیں بہت نرم دل اور لچکدار رویہ والے ہوتے ہیں۔گھروں میں ڈسپلن لاگو نہیں کرتے۔ان کے بچے کھل کر اپنے ارا کا اظہار کرسکتے ہیں۔ والدین بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور بچوں کی مادی ضروریات کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان کے بچے اکثر لاڈلے بن جاتے ہیں۔

بچوں پر اثرات

اس رویے کہ مثبت اثرات یہ ہوتے ہیں کہ بچے پر اعتماد ہوتے ہیں ان می قائدانہ اور صلاحیتیں نشوونما پا سکتی ہے

آزادی اور سخت قوانین کی کمی سے تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے۔یہ کھل کر اپنی رائے اور ضرورتوں کا اظہار کرتے ہیں۔

منفی اثرات

بغیر واضح حدود اور مستقل قوانین کے، بچے خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور زیادہ آنا پرست ہوجاتے ہیں

توقعات اور نظم و ضبط کی کمی بچوں کی حوصلہ افزائی اور تعلیمی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

چونکہ ایسے بچے ضابطوں میں نہیں پلے بڑھے ہوتے اس لیے 

اشتراک، تعاون اور دوسروں کی حدود کے احترام کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے۔

سکول کی زمداری

ایسے بچوں کے لیے سکول میں ضابطوں اور قوانیں کی اہمیت پر بات چیت ہونی چاہیے۔

ایسی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے جس میں بچے ایک دوسرے کے ساتھ مل کے ایک ضابطے کے تحت کام کریں 

ایسے والدین کے لیے آگاہی کے ورکشاپس ہونے چاہیے جس کا بنیادی موضوع بچوں کی ڈسپلن،رہنمائ اور بچوں سے مختلف قسم کے توقعات وابستہ کرنے اور اس کی اہمیت ہو۔

لاپرواہ (Uninvolved )

اس طرح کے والدین بچوں کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا، لباس، اور تعلیم پر توجہ نہیں دیتے۔یہ بچے کی احساسات اور جذبات اور نظم وضبط کا بھی خیال نہیں رکھتے۔والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے ہوتے ہیں بات چیت یا مکالمہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔عرض انکو بچوں کی زندگیوں میں کوئ دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ انکی تربیت کے حوالے سے غیر فعال ہوتے ہیں۔

بچوں پر اثرات

 ایسےوالدین کے بچے عموماً جذباتی اور سماجی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی کی کمی ہو سکتی ہے ان کی تعلیمی کارکردگی بھی اکثر متاثر ہوتی ہے کیونکہ انہیں والدین کی جانب سے مناسب رہنمائی اور تعاون نہیں ملتا۔جوانی میں ایسے بچے مختلف نشوں کی طرف راغب ہوسکتے ہیں۔

سکول کا کردار

اسکول ایسے بچوں کے لیے کاؤنسلنگ سروسز فراہم کریں تاکہ ایسے بچوں کی جذباتی اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال ہو سکے۔

اساتذہ کو تربیت دینا تاکہ وہ ایسے بچوں کی ضرورتوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور ان کی مدد کر سکیں۔

والدین کے ساتھ مسلسل رابط رکھنا تاکہ انہیں بچوں کی ضروریات اور مسائل سے آگاہ کیا جا سکے۔

 ایسی نصابی اور ہم نصابی سرگرمییاں ترتیب دینا جو بچوں کو مثبت ماحول فراہم کریں۔

والدین کی تربیتی ورکشاپ کرنا تاکہ انکو بچوں کی رہنمائ اور انکے امور میں دلچسپی لینے میں انہی ترعیب دی جا سکیں۔



Comments